جہلم میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کا قیام، جعلی ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائیوں کا آغاز

جہلم: ڈی پی او آفس جہلم میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل قائم کر دیا گیا، جس کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا اور جعلی ایجنٹ مافیا کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم میں پہلی مرتبہ جعلی ایجنٹ مافیا کے خلاف خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جہاں سائلین کی درخواستوں پر فوری کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے شہریوں کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر سن کر ان کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔
ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو کے مطابق غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر سادہ لوح شہریوں سے رقم بٹورنے والے انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ایک سائل مرزا اخلاق احمد نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایجنٹ کو یونان بھیجنے کے لیے 10 سے 12 لاکھ روپے دیے، لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود انہیں کوئی جواب نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ تاہم اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کے قیام کے بعد انہوں نے اپنی درخواست جمع کروا دی ہے اور انصاف کی امید کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جہلم ان شہروں میں شامل ہے جہاں کے لوگ غیر قانونی طریقوں سے، خصوصاً "ڈنکی” لگا کر، بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیبیا اور مراکش کے سمندری حادثات کے بعد اس علاقے میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا۔

ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع جہلم کے بہت سے لوگ بیرون ملک مقیم ہیں، اور یہاں کے شہریوں میں بیرون ملک جانے کا رجحان عام ہے۔ کچھ لوگ قانونی طور پر سپانسرشپ کے ذریعے جاتے ہیں، لیکن بہت سے افراد، جن کے بیرون ملک کوئی تعلقات نہیں، غیر قانونی راستے اختیار کر لیتے ہیں اور جعلی ایجنٹوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں سنگین حادثات رونما ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل قائم کیا گیا ہے، اور ایک ہفتے کے اندر چار سے پانچ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
شہریوں نے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف عوام میں شعور بیدار کرے گا بلکہ جعلی ایجنٹ مافیا کی سرکوبی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، جس سے معصوم شہریوں کو دھوکہ دہی اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم سے بچایا جا سکے گا۔



