متنازع پیکا ایکٹ بل کے خلاف دینہ کی صحافی برادری کا احتجاج

دینہ: متنازعہ پیکا ایکٹ کے خلاف صحافی برادری کا شدید احتجاج، تحصیل بھر کے صحافیوں سمیت سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق دینہ میں صحافی برادری نے متنازعہ پیکا ایکٹ کے خلاف شدید احتجاج کیا، جس میں سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے شریک ہوئے۔ احتجاج کے دوران صحافیوں نے "پیکا ایکٹ نامنظور” اور "کالا قانون نامنظور” کے نعرے لگائے جبکہ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اور بینرز اٹھا کر اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
احتجاجی ریلی مین چوک اور منگلا روڈ سے ہوتی ہوئی واپس مین چوک پر پہنچی، جہاں سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس متنازع قانون کے خلاف صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کے ان غیر جمہوری اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت پر قدغن کسی صورت قبول نہیں اور یہ کالا قانون بھی جلد ختم ہوگا۔
احتجاجی ریلی سے دینہ پریس کلب کے صدر سید توقیر آصف شاہ، دینہ الیکٹرانک میڈیا کے صدر ربنواز گوندل، تحصیل پریس کلب کے صدر جرار حسین میر، ماجد آفریدی، رضوان سیٹھی، سید ذوالقرنین شاہ، اقبال خان، سہیل انجم قریشی، ملک اسد اعوان، سید امیر شاہ، ڈاکٹر لیاقت مغل سمیت دیگر صحافی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
صحافیوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متنازع پیکا ایکٹ آزادیٔ اظہار رائے پر حملہ ہے اور اس کے ذریعے صحافیوں کی زبان بندی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی منظوری بغیر مشاورت کے کی گئی، جو حکومتی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔
صحافیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کالے قانون کو فوری واپس لے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ ملک گیر سطح پر وسیع کر دیا جائے گا۔ آخر میں صحافی برادری نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور آزادی صحافت پر کسی بھی قسم کی قدغن کو قبول نہیں کریں گے۔



