جہلم تا پنڈدادنخان مسافروں کا سفر کرنا وبال جان بن گیا، زائد کرایہ اور بدتمیزی معمول بن گئی

جہلم سے پنڈدادنخان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسافر گاڑیوں کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کی جانب سے بدتمیزی اور زائد کرایہ وصول کرنے کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ معمولی سامان کے لیے بھی اضافی کرایہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ٹکٹ جاری نہ کرنے اور مسافروں کو گنجائش سے زیادہ گاڑیوں میں ٹھونسنے جیسے واقعات نے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

لاری اڈہ جہلم پر ایک خاتون مسافر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پنڈدادنخان کے لیے ہائی ایس گاڑی کا کرایہ ادا کیا، لیکن ٹکٹ مانگنے پر انہیں یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔

خاتون نے بتایا کہ گاڑی کے عملے نے معمولی سامان کے لیے بھی کرایہ وصول کیا اور دیگر مسافروں کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ مسافروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لاری اڈہ جہلم پر جنگل کا قانون نافذ ہے۔

خاتون نے مزید بتایا کہ ہائی ایس گاڑیاں جو کہ 13 سیٹر ہوتی ہیں، ان میں 20 سے 22 مسافروں کو جانوروں کی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر خدا نخواستہ کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔ دورانِ سفر ایک اور ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جب خاتون سے سامان کے لیے اضافی کرایہ وصول کیا گیا اور انکار پر بدتمیزی کرتے ہوئے انہیں گاڑی سے اترنے کا کہا گیا۔

خاتون نے موٹر وے پر ٹول پلازہ کے اہلکار سے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ موٹر وے پر کسی بھی معمولی بیگ یا سامان پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ خاتون نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈرائیورز مسافروں کو غلط معلومات دے کر ان سے اضافی پیسے وصول کرتے ہیں۔

مسافروں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اور سیکرٹری آر ٹی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ان بے لگام ٹرانسپورٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کرایوں کے تعین کے ساتھ ساتھ سامان کے وزن کی حد مقرر کی جائے اور زائد مسافر بٹھانے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

مسافروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ خواتین مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے عملے کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام بلا خوف و خطر سفر کر سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button