نورین ہنی ٹریپ اور منشیات فروش گینگ؛ اوورسیز پاکستانی اور فیکٹری مالک لاکھوں لٹابیٹھے، سرغنہ نورین ساتھیوں سمیت تاحال فرار

جہلم میں نورین ہنی ٹریپ اور منشیات فروش گینگ کی سرغنہ اور ویڈیو ایڈیٹر سمیت دیگر افراد تاحال گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ ان کی سرپرستی کرنے والے پولیس اہلکار بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ گینگ میں شامل تین بہنوں کو منشیات برآمدگی کے بعد جیل بھیجا جا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہلم میں تھانہ چوٹالہ کے علاقے کوٹ بصیرہ کی رہائشی نورین نے اپنی تین بیٹیوں اور چند دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک گینگ تشکیل دیا تھا، جو مالدار افراد کو اپنے جال میں پھنسا کر ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرکے لاکھوں روپے ہتھیانے میں ملوث تھا۔
بیرون ملک مقیم شخص ظہیر نے انکشاف کیا کہ مذکورہ گینگ نے اسے رشتے کا جھانسہ دے کر چھ لاکھ سے زائد رقم ہتھیائی اور جب اس نے رقم واپس مانگی تو اسے قتل کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے باعث وہ بیرون ملک چلا گیا۔
ذرائع کے مطابق نورین گینگ کی بیٹی کی مدد سے ایک نجی فیکٹری کے مالک بابا افتخار کی غیر اخلاقی ویڈیو بنائی گئی اور پھر اسے بلیک میل کرکے لاکھوں روپے وصول کیے گئے۔ مزید رقم نہ دینے پر یہ ویڈیو لیک کر دی گئی۔
متعدد متاثرین کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر ڈی پی او جہلم نے ڈی ایس پی صدر پر مشتمل انکوائری ٹیم تشکیل دی، تاہم گینگ کی سرغنہ اور ان کی پشت پناہی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر بچا لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کچھ متاثرین نے آر پی او راولپنڈی سے رابطہ کیا، جس کے نوٹس لینے پر تھانہ چوٹالہ پولیس نے گینگ میں شامل نورین کی تین بیٹیوں کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے۔
مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ اس گینگ کے جرائم پیشہ عناصر سے روابط تھے اور اگر مکمل تحقیقات کی جائیں تو جنگو، سنگھوئی اور دیگر علاقوں میں ہونے والی وارداتوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ سرغنہ نورین، ویڈیو ایڈیٹر فیضان اور دیگر ساتھی تاحال مفرور ہیں۔
متاثرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنی ٹریپ، منشیات اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث اس گینگ کے تمام افراد کو فوری گرفتار کیا جائے تاکہ عوام کو انصاف مل سکے۔



