جہلم کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی غیر حاضری، مریض پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور

جہلم: پابندی کے باوجود جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز کی اکثریت فرائض کی بجائے پرائیویٹ کلینکس اور نجی ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینے میں مصروف ہے۔
بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی حاضری کو یقینی نہ بنایا جا سکا. ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹرز اور عملہ کی حاضری کو 100 فیصد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں شعبہ زچہ بچہ اور نائٹ شفٹ ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بائیو میٹرک سسٹم سے حاضری لگانے کے بعد ہسپتال سے غائب ہو جاتے ہیں اور پرائیویٹ کلینکس اور نجی ہسپتالوں میں خدمات فراہم کرنے لگتے ہیں۔ اس وجہ سے رات کے اوقات میں سرکاری ہسپتال کے وارڈز، شعبہ زچہ بچہ اور ایمرجنسی میں مختلف بیماریوں میں مبتلا مریض علاج کے لیے ڈاکٹرز کی عدم موجودگی کی بنا پر پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔
مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور ایمرجنسی میں تمام ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔



