مہنگائی میں مزید اضافہ، رواں ہفتے 23 اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں، ادارہ شماریات

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری ہے، حالیہ ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 11فیصداضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہوکر23 اعشاریہ 33 فیصد ہوگئی ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتہ میں روزمرہ استعمال کی 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور 6 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 22اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
اعدادوشمار کے مطابق پاؤڈر دودھ کی قیمت میں 6 اعشاریہ 07 فیصد،چکن 16 اعشاریہ 34 فیصد، تازہ کھلا دودھ 1 اعشاریہ 37فیصد، دال چنا 3 اعشاریہ 47 فیصد ، دال مونگ کی قیمت میں 1 اعشاریہ 02 فیصد اور دال مسور کی قیمتوں میں 1 اعشاریہ 23فیصداضافہ ہوا۔
دوسری جانب آلوکی قیمت میں 0 اعشاریہ 86 فیصد، پیاز1 اعشاریہ 55 فیصد، ٹماٹر19 اعشاریہ 47 فیصد،انڈے 0 اعشاریہ 61 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 0 اعشاریہ 61فیصد کمی ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 17 فیصد کمی کے ساتھ16 اعشاریہ 17 فیصد، اور 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے 0 اعشاریہ 08 فیصد کمی کے ساتھ 20 اعشاریہ 10 فیصد رہی۔
اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 02 فیصد اضافے کے ساتھ 25 اعشاریہ 93 فیصد اور 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے0 اعشاریہ 099 فیصداضافے کے ساتھ 23 اعشاریہ 50فیصد رہی۔
ادارہ شماریات کے مطابق 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 19 فیصداضافے کے ساتھ 21 اعشاریہ 37فیصد رہی۔



