ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں 23سال بعد بھی قیدیوں کی زندگی کے فیصلے نہ ہوسکے

جہلم: جہلم سمیت صوبہ پنجاب کی 23 جیلوں میں سزائے موت کے 890 قیدیوں کی 23 سال گزرنے کے باوجود زندگیوں کے فیصلے نہ ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں 30 سزائے موت کے قیدیوں اور سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں 105 قیدیوں کی اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

سنٹرل جیل گوجرانولا کے 79 قیدیوں نے اپنی سزاؤں کو چیلنج کر رکھا ہے، سنٹرل جیل ساہیوال کے 50 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل قصور کے 26 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے 48 قیدی، سنٹرل جیل راولپنڈی میں 81 قیدیوں، ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے 44 قیدیوں اور ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا کے 32 قیدیوں کی اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین کے 90 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل میانوالی میں 40 قیدیوں، ڈسٹرکٹ جیل جھنگ کے 30 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں سزائے موت کے 32 قیدی، ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور میں قید 6 قیدیوں اور ڈسٹرکٹ جیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 9 قیدیوں نے اپنی سزاؤں کو چیلنج کر رکھا ہے۔

سنٹرل جیل ملتان میں 59 قیدی ،سنٹرل جیل بہاولپور میں 50 قیدیوں سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان میں 29 سزائے موت کے قیدیوں اورڈسرکٹ جیل وہاڑی میں 33 سزائے موت کے قیدیوں کی اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

بعض اپیلیں 1997 بعض 2001 اور 2007 کی پڑی ہوئی ہیں، جن کے ابھی تک فیصلے نہیں ہو سکے جبکہ بعض قیدی دوران اپیل ہی زندگی کی بازی ہار گئے اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button