جہلم: سول اسپتال میں شہد کی مکھیوں کا حملہ، مریض اور لواحقین خوف کا شکار، شہری موبائل اور قمیض سے محروم

جہلم: ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال جہلم اس وقت افراتفری کا منظر پیش کرنے لگا جب اچانک سینکڑوں شہد کی مکھیاں اسپتال کے احاطے میں نمودار ہو گئیں اور موجود افراد پر حملہ کر دیا۔ درجنوں افراد مکھیوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے جبکہ اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔
واقعہ کے عینی شاہدین کے مطابق ہفتہ کے روز جہلم میں شہد کی مکھیوں کا جھنڈ اچانک نمودار ہوا، جس کے بعد اسپتال میں موجود مریض، تیماردار اور عملہ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے رہے۔ خوف و ہراس کے عالم میں کئی افراد زمین پر گر گئے جبکہ بعض نے خود کو بچانے کے لیے کمروں یا گاڑیوں میں پناہ لی۔
علاج کی غرض سے اسپتال آئے عمار نامی شہری کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب شہد کی مکھیاں اس کی قمیض کے اندر چلی گئیں۔ جان بچانے کے لیے عمار نے قمیض اتار کر اسپتال کے احاطے میں پھینک دی اور عمارت کے اندر بھاگ گیا۔ تاہم جب صورتحال کچھ معمول پر آئی اور وہ اپنی قمیض واپس لینے گیا تو اسے معلوم ہوا کہ قمیض غائب ہو چکی ہے۔
عمار نے میڈیا کو بتایا کہ قمیض میں اس کا موبائل فون اور کچھ نقد رقم بھی موجود تھی۔ اسپتال انتظامیہ کو درخواست دینے کے بعد بھی کچھ نہ بن سکا اور مایوس ہو کر وہ بنیان میں ہی گھر لوٹ گیا۔
اسپتال میں موجود دیگر افراد نے بھی بتایا کہ شہد کی مکھیاں تقریباً دو گھنٹے تک مسلسل اسپتال کے احاطے میں موجود رہیں اور خوف کی فضا قائم رہی۔ واقعہ نے اسپتال کی انتظامی تیاریوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے فقدان کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



