رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بازاروں کی رونقیں بحال، مہنگائی سے خریدار پریشان

جہلم: رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شہر کے بازاروں، مارکیٹوں، شاپنگ سینٹرز اور کاروباری مراکز میں رونقیں بحال ہوگئیں۔ خواتین اور فیملیز بڑی تعداد میں عید الفطر کی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کر رہی ہیں، تاہم مہنگائی کی وجہ سے اکثر خریدار پریشان نظر آتے ہیں۔

عید الفطر جوں جوں قریب آرہی ہے، بازاروں میں گہما گہمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خواتین اور نوجوان چوڑیاں، مہندی، جیولری، کپڑے، جوتے اور میک اپ کے سامان کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ بچوں کے لیے نئے کپڑے اور جوتے بھی خریدے جا رہے ہیں۔ تاہم دکانداروں کی جانب سے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے خریداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خریدار خواتین اور فیملیز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عید کی خوشیوں کو ماند کر دیا ہے۔ دکانداروں نے قیمتوں میں دو سے تین گنا اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ کے لیے نئے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیاء خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں نے پہلے ہی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور اب عید کی خریداری بھی عام آدمی کے بس سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے مہنگائی کم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے مگر عملی طور پر کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ دیگر ممالک میں مذہبی تہواروں پر قیمتوں میں کمی اور خصوصی سیل لگائی جاتی ہے مگر ہمارے ملک میں ہر تہوار پر قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اس تمام صورتحال میں دکانداروں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

عوام نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں میں اشیاء کے نرخوں کو کنٹرول کیا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقہ بھی عید کی خوشیوں میں برابر کا شریک ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button