جلالپور شریف میں نکاسی آب کے تالابوں پر بااثر افراد کے قبضے، گلیاں جوہڑ بن گئیں

پنڈدادنخان: یونین کونسل جلالپور شریف میں نکاسی آب کے لیے بنائے گئے تین چھپڑوں پر بااثر افراد کے قبضے کے باعث گاؤں کا نکاسی نظام شدید متاثر ہو گیا ہے، جس سے گلیوں اور گھروں میں گندا پانی جمع ہونے لگا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گاؤں میں درجنوں کنال پر مشتمل تین چھپڑ موجود تھے جہاں گھروں اور بارش کا پانی جمع ہوتا تھا، تاہم گزشتہ 15 سے 20 سال کے دوران ان چھپڑوں پر قبضے کر کے پختہ تعمیرات اور پلاٹس بنا کر فروخت کر دیے گئے، جس کے باعث نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق گلیوں میں بدبودار پانی کھڑا رہنے سے مکینوں، خصوصاً خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سڑکیں اور گھروں کی بنیادیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ شہریوں نے بتایا کہ جلالپور شریف کا تاریخی تالاب، جو قیام پاکستان سے قبل تعمیر کیا گیا تھا، سمیت دیگر چھپڑ بھی قبضے کی زد میں ہیں جس سے صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔
متاثرہ مکینوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے اور تالابوں و چھپڑوں کو واگزار کروا کر بحال کیا جائے تاکہ نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔



