جہلم کے بازاروں میں تجاوزات کی بھرمار، ریڑھی بانوں کی حکمرانی، انتظامیہ بے بس

جہلم: شہر بھر کے بازاروں میں تجاوزات اور ریڑھی بانوں کے قبضے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
مین بازار، چوک اہلحدیث اور مچھلی منڈی جیسے اہم تجارتی مراکز ریڑھیوں اور غیر قانونی قبضوں کی وجہ سے کشادہ بازاروں سے تنگ گلیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں خواتین، بزرگوں اور بچوں کا پیدل چلنا بھی مشکل ترین ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ نادیدہ سرپرستی میں ہو رہا ہے، جہاں ریڑھی بان چوک چوراہوں، سڑکوں اور سروس روڈز کو اپنی مرضی سے قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ مشین محلہ میں قائم کردہ ریڑھی بازار بھی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کا شکار ہے، جہاں ریڑھی بان جانے کو تیار نہیں اور انتظامیہ انہیں منتقل کروانے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کا انسداد تجاوزات شعبہ اور دیگر متعلقہ افسران بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے واضح احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے انسداد تجاوزات سکواڈ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن پر شہریوں کا الزام ہے کہ وہ صرف "ڈنگ ٹپاؤ” اور "مال بناؤ” پالیسی پر عمل پیرا ہیں، نہ کہ کسی حقیقی حل پر۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری بلدیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں، اور شہر سے تجاوزات کا خاتمہ کروا کر شہریوں کو سکھ کا سانس لینے دیں۔ بصورت دیگر یہ صورتحال نہ صرف عوامی مشکلات کا باعث ہے بلکہ ٹریفک نظام اور شہر کی خوبصورتی کو بھی تباہ کر رہی ہے۔



