جہلم تا پنڈ دادنخان دو رویہ سڑک منصوبہ جو بھی سیاسی جماعت ختم کرے گی وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گی


جہلم تا پنڈ دادنخان دو رویہ سڑک کا منصوبہ خطے کے لیے ترقی کی شاہراہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ہزاروں مقامی لوگوں کی سہولت کا باعث ہے بلکہ معاشی ترقی، کاروبار، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
نیوز لائن رپورٹ کے مطابق مقامی آبادی کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ ان کے شہر کو جدید انفراسٹرکچر سے آراستہ کیا جائے، اور یہ سڑک خطے کو ملک کے بڑے شہروں سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سڑک کا منصوبہ ایک طویل عرصے سے مقامی عوام کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ سڑک نہ صرف ضلع جہلم بلکہ ارد گرد کے علاقوں کی بھی ترقی کا اہم وسیلہ ہے۔
پنڈ دادنخان جیسے پسماندہ علاقے کے لوگوں کے لیے یہ سڑک ایک زندگی بدل دینے والے اقدام سے کم نہیں۔ اس سڑک کے ذریعے نہ صرف فاصلے کم ہوں گے بلکہ سفری سہولیات میں بہتری آئے گی اور لوگوں کا وقت اور پیسہ دونوں بچیں گے۔یہ سڑک جہلم اور پنڈ دادنخان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سے علاقے کے زرعی اور صنعتی کاروبار کو فروغ ملے گا، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پنڈ دادنخان کے معدنی وسائل، جیسے نمک اور دیگر معدنیات، کی منتقلی آسان ہو جائے گی، جس سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
جہلم اور پنڈ دادنخان کے عوام اس منصوبے سے وابستہ ہیں اور اسے اپنی بنیادی ضرورت سمجھتے ہیں۔ عوامی رائے یہ ہے کہ جس بھی سیاسی جماعت نے اس منصوبے کو ختم کرنے کی کوشش کی، اسے آئندہ انتخابات میں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس منصوبے کو ختم کرنا نہ صرف ترقی کو روکنے کے مترادف ہوگا بلکہ مقامی عوام کے حقوق سے انحراف بھی ہوگا۔اگر کوئی سیاسی جماعت اس منصوبے کو ختم کرنے یا تاخیر کا شکار بنانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ان کی سیاسی ساکھ کے لیے ایک بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔
عوامی توقعات کے برعکس جانے کا نتیجہ سیاسی جماعت کے ووٹ بینک میں کمی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ یہاں تک کہ مقامی آبادی اس جماعت کو سیاسی میدان سے باہر نکالنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔جہلم تا پنڈ دادنخان دو رویہ سڑک کے منصوبے کی منسوخی کا مطلب ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جو اس منصوبے کو ختم کرے گی یا اس میں تاخیر کرے گی، وہ دراصل اپنی سیاسی قبر کھود رہی ہے۔ عوام کی طاقت کو نظرانداز کرنے کی پالیسی طویل المدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی حکومت یا سیاسی جماعت واقعی علاقے کی ترقی میں دلچسپی رکھتی ہے، تو اسے اس منصوبے کو اولین ترجیحات میں رکھنا ہوگا۔
جہلم تا پنڈ دادنخان دو رویہ سڑک کا منصوبہ ایک ترقیاتی شاہراہ ہے جو خطے کو ایک نیا مستقبل دے سکتا ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور خطے کی ترقی کا عکاس ہے۔ جس بھی سیاسی جماعت نے اس منصوبے کو ختم کیا یا نظرانداز کیا، اسے سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ عوام کی توقعات کو پورا کرنا اور انہیں بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس منصوبے کا مستقبل سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی اور عوامی خدمت کے عزم پر منحصر ہے۔



