جہلم میں نصب خطرناک اشتہاری بورڈز شہریوں کی جان و مال کے لیے مستقل خطرہ، انتظامیہ خاموش

2
جہلم شہر کے مختلف چوک چوراہوں، بلند و بالا عمارتوں اور سرکاری و نجی عمارتوں پر نصب سینکڑوں اشتہاری سائن بورڈز شہریوں کی جان و مال کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے بعد عدالت کی جانب سے ان بورڈز کو ہٹانے کے واضح احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم ضلع جہلم میں صورتحال آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اور مستقل کارروائیوں کا فقدان کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مبینہ طور پر بااثر افراد اور بڑے اشتہاری بورڈز کے مالکان کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے جبکہ کارروائیاں صرف کمزور اور چھوٹے دکانداروں تک محدود رہتی ہیں۔ ناجائز تجاوزات کے نام پر چھوٹے کاروباری افراد کے خلاف وقتی کارروائیاں کر کے محض فوٹو سیشن کیے جاتے ہیں، مگر بڑے، بھاری اور خطرناک تشہیری بورڈز، ان کے کنٹریکٹرز اور مالکان کے خلاف کوئی ٹھوس اور عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
جہلم شہر کی اہم سرکاری اور نجی عمارتوں کے کناروں پر نصب بڑے بڑے سائن بورڈز کسی بھی حفاظتی معیار کے بغیر لگائے گئے ہیں۔ تیز ہواؤں اور بارش کے دوران ان کے گرنے کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے حادثے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کون کرے گا، یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی، خطرناک اور بغیر این او سی نصب تمام سائن بورڈز کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اراضی اور سرکاری عمارتوں پر نصب بورڈز کی جامع جانچ پڑتال کی جائے اور اس کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ سرکاری اہلکاروں کے خلاف شفاف انکوائری عمل میں لائی جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے قبل مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔



