امریکا میں مقیم دو پاکستانی شہری امیگریشن فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے دو پاکستانی نژاد امریکی شہریوں عبد الہادی مرشد (عمر 39 سال) اور محمد سلمان ناصر (عمر 35 سال) کو امیگریشن فراڈ، منی لانڈرنگ اور جعلی ویزا اسکیم چلانے کے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان دونوں افراد کے خلاف ایک ٹیکساس کی لاء فرم اور ”ریلائی ایبل وینچرز انک“ نامی کمپنی کے زریعے سازش، ویزا فراڈ، ریکٹئرنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں کہا، ’ایف بی آئی ڈلاس کی بڑی کارروائی، عبد الہادی مرشد اور محمد سلمان ناصر، جنہوں نے مبینہ طور پر جعلی ویزا درخواستیں بیچ کر امریکی امیگریشن قوانین کو چکمہ دینے والا مجرمانہ نیٹ ورک چلایا۔‘
Major arrests out of @FBIDallas.
Abdul Hadi Murshid and Muhammad Salman Nasir — two individuals out of Texas who allegedly oversaw and operated a criminal enterprise circumventing American immigration laws by selling fraudulent visa applications.
Well done to our FBI teams and… https://t.co/w7BGcbD5BY
— FBI Director Kash Patel (@FBIDirectorKash) May 24, 2025
امریکی عدالت میں دائر کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ان دونوں افراد اور ان کی کمپنیوں نے ای بی-2، ای بی-3 اور ایچ-1 بی ویزا پروگراموں کے ذریعے جعلی کاغذات، ملازمت کے جھوٹے آفر لیٹرز اور جعلی اخباری اشتہارات کے ذریعے غیر ملکی شہریوں (جنہیں عدالت میں ”ویزا سیکرز“ کہا گیا) کو غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل کرانے اور رکوانے کی کوشش کی۔
یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ان افراد نے ویزا درخواست دہندگان سے بھاری رقوم وصول کیں اور پھر انہی رقوم کو جعلی تنخواہوں کی صورت میں واپس دے کر ملازمتوں کو حقیقی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
قائم مقام امریکی اٹارنی چَیڈ ای میچم کا کہنا ہے کہ ’ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک وسیع، منظم اور کئی سالوں پر مشتمل امیگریشن فراڈ اسکیم کو چھپانے کے لیے جامع تدابیر اختیار کیں جس سے انہوں نے بھاری مالی فائدہ اٹھایا۔ ایسے مقدمات کا پیچھا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
ایف بی آئی ڈلاس کے اسپیشل ایجنٹ انچارج آر جوزف روتھ راک نے کہا کہ ’ان افراد نے برسوں سے بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک چلایا جو ہمارے امیگریشن نظام کو مسلسل نقصان پہنچاتا رہا۔ ایسے قوانین قومی سلامتی اور قانونی امیگریشن عمل کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔‘
عبدالہادی مرشد اور محمد سلمان ناصر نے 23 مئی کو عدالت میں پیشی دی، اور حکومت نے ان کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں مقدمے تک حراست میں رکھنے کی درخواست کی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 30 مئی کو مقرر ہے۔
اگر یہ دونوں افراد قصوروار ثابت ہوئے تو انہیں بیس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ عبد الہادی مرشد امریکی شہریت سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔



