جہلم میں نوجوان نسل میں شیشہ نوشی کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا، ماہرین صحت اور شہری حلقے تشویش میں مبتلا

جہلم شہر میں نوجوانوں کے درمیان شیشہ نوشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھنے لگا ہے۔
شیشے کو فیشن اور لائف اسٹائل کا حصہ سمجھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دیدہ دلیری کے ساتھ اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ شہر میں شیشہ گھروں اور نجی دفاتر میں قائم ویپنگ پوائنٹس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
نوجوان نسل شیشے کو تمباکو سے کم مضر سمجھ کر استعمال کر رہی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک گھنٹہ شیشہ پینا تقریباً 200 سگریٹ پینے کے برابر ہے۔
شیشہ تمباکو، مصنوعی فلیورز اور مضر صحت کیمیکلز کا مجموعہ ہوتا ہے جو پھیپھڑوں، دل، گردوں اور نظام انہضام پر شدید منفی اثر ڈالتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشہ نوشی سے کئی مہلک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں اور یہ ذہنی سکون نہیں بلکہ وقتی فریب ہے۔
شہری حلقوں، والدین اور ماہرین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز، دفاتر اور شیشہ گھروں پر فوری پابندی عائد کی جائے اور نوجوانوں کو تباہی سے بچانے کے لیے بھرپور آگاہی مہم اور کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے۔



