آٹے کی قیمت میں بڑی کمی بھی ہوٹل مالکان کا پیٹ نا بھر سکی، شہری سراپا احتجاج

جہلم: آٹے کی قیمت میں نمایاں کمی کے باوجود جہلم شہر اور گردونواح میں ہوٹل مالکان نے روٹی کے نرخ کم کرنے سے انکار کر دیا۔ 80 سے 90 گرام وزنی روٹی 20 سے 40 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جبکہ انتظامیہ گران فروشوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے قاصر نظر آ رہی ہے،۔
پنجاب حکومت کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے بعد واضح احکامات جاری کیے گئے تھے کہ نان، روٹی، اور دیگر آٹے سے تیار کردہ اشیاء کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ تاہم، جہلم کے مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے ہوٹل مالکان نے ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نرخ وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
چھوٹے ہوٹلوں میں روٹی 20 روپے جبکہ بڑے ہوٹلوں میں 30 سے 40 روپے فی روٹی کے نرخ لیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے گران فروشوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں واضح کمی کے باوجود روٹی کی قیمت میں کمی نہ ہونا سراسر ناانصافی اور عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گران فروشوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری نرخوں پر روٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔



