جہلم شہر اور جی ٹی روڈ کے ہوٹلوں میں مبینہ من مانے نرخ وصول کیے جانے کا انکشاف

جہلم شہر، ضلع بھر اور جی ٹی روڈ پر قائم متعدد ہوٹلوں میں مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کیے جانے اور نرخنامے آویزاں نہ ہونے پر شہریوں اور مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر قائم ٹرک ہوٹلوں سمیت ضلع بھر کے متعدد ہوٹلوں میں چیک اینڈ بیلنس کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث مبینہ طور پر منافع خوری کا سلسلہ جاری ہے۔

مسافروں اور مقامی افراد نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیشتر ہوٹلوں میں سرکاری نرخنامے نمایاں جگہ پر آویزاں نہیں کیے گئے، جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی کوئی شفافیت نظر نہیں آتی۔

شہریوں کے مطابق بعض ہوٹلوں پر سادہ دیسی کھانے، جن میں دال اور دو روٹیاں بھی شامل ہیں، کے عوض فی کس 500 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جو غریب، دیہاڑی دار، مزدور اور متوسط طبقے کی استطاعت سے باہر ہیں۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ بعض ہوٹل مالکان اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں اور مسافروں کے پاس مجبوری کے باعث ادائیگی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کے تعین اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام نہ ہونے سے ناجائز منافع خوری کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

شہریوں اور مسافروں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، پنجاب فوڈ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر کے ہوٹلوں کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے، سرکاری نرخنامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کرانے کو یقینی بنایا جائے اور زائد نرخ وصول کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button