جہلم تا للِہ دو رویہ سڑک کی تعمیر میں تاخیر، پنڈدادنخان تا مصری موڑ حصہ سست روی کا شکار، عوام کو مشکلات کا سامنا

جہلم تا للِہ دو رویہ سڑک کے 128 کلو میٹر طویل منصوبے کا پنڈدادنخان تا مصری موڑ حصہ شدید سست روی کا شکار ہو گیا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز، عوام، تاجر برادری اور طلبہ و طالبات کو روزمرہ سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اہم منصوبہ جہلم کو للِہ انٹرچینج موٹروے سے ملانے والی ایک مرکزی شاہراہ ہے، جو علاقائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم پنڈدادنخان سے مصری موڑ تک تعمیراتی کام کی رفتار انتہائی سست ہونے کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق اس سڑک کی عدم تکمیل کے باعث جہلم، میرپور، سرائے عالمگیر اور دیگر ملحقہ علاقوں سے آنے والی بھاری ٹریفک کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف مسافروں کو ذہنی اذیت ہوتی ہے بلکہ ایندھن کے اضافی اخراجات اور قیمتی وقت کا ضیاع بھی بڑھ رہا ہے۔
روزانہ سفر کرنے والے افراد، خصوصاً طلبہ و طالبات اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، جبکہ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ سڑک کی ناقص صورتحال اور تعمیر میں تاخیر کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ سامان کی بروقت ترسیل میں رکاوٹ آ رہی ہے جس سے مالی نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہے۔
شہریوں نے مزید بتایا کہ زیر تعمیر سڑک کی خراب حالت کے باعث ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ متعدد جان لیوا حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہو کر بعض صورتوں میں مستقل معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔
سڑک کی خستہ حالی کے باعث عوام کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے انہیں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور کیے گئے وعدے کے مطابق جون 2026 تک سڑک کی تعمیر مکمل کرائی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



