حکومت ٹیکسوں کا سارا بوجھ عام عوام اور تنخواہ دار مزدور محنت کش کسان طبقوں پر لاد رہی ہے، شہری حلقے

جہلم: جہلم کی شہری تنظیموں کے عمائدین نے بجلی کے بلوں میں ہر ہفتے بھاری اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا سارا بوجھ عام عوام اور تنخواہ دار مزدور محنت کش کسان طبقوں پر لاد رہی ہے ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری محکموں کے سربراہان کی مراعات میں کمی کی بجائے غیر معمولی اضافہ کر کے عام افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن گھروں میں چار پانچ افراد زیرِ کفالت ہیں جو چند سو روپوں کی بجلی استعمال کرتے ہیں حکومت ان سے بجلی کی قیمت سمیت 13/14 اقسام کے بلا جواز ٹیکسز بھی وصول کررہی ہے اور اب مزید ٹیکسز کے نام کو بھی متعارف کرائے جارہے ہیں ،پاکستان میں اس وقت دنیا بھر کے مقابلے میں فی کس آمدنی سے کئی گنا زیادہ مہنگی بجلی فروخت کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے بجلی وگیس کے نرخوں میں من مانا مسلسل اضافہ کر کے حکومت نے ان سرکاری محکموں کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، تمام اداروں اور شعبوں میں لوٹ مار جاری ہے ، مسلم لیگ ن کی حکومت بلند و بانگ دعوے کرکے برسراقتدار آئی اب صورتحال حکمرانوں کے کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے۔
انہوں نے صارفین پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے اتحاد کی طرح اپنے اندر اتحاد پیدا کریں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے حکمرانوں سے مطالبہ کیاہے کہ سرکاری افسران کو مراعات دینے کی بجائے ملکی صورتحال کو مد نظررکھتے ہوئے کم از کم 10 سال کے لئے مراعات ختم کی جائیں تاکہ معاشی بد حالی کا شکار ملک بہتری کی طرف گامزن ہو سکے۔



