جہلم کے خاموش ہیرو؛ پوسٹ مین چوہدری نذیر احمد 35 سے 40 برس عوامی خدمت کی روشن مثال

جہلم: جی پی او جہلم کے در و دیوار آج بھی ایک ایسے خاموش ہیرو کی گواہی دے رہے ہیں جس نے اپنی زندگی کے قیمتی 35 سے 40 سال عوام کی خدمت میں صرف کر دیے، مگر نہ کبھی زبان پر شکوہ لایا اور نہ ہی کسی صلے کا مطالبہ کیا۔

آج ہم بات کر رہے ہیں پوسٹ مین چوہدری نذیر احمد کی، وہ نام جو اندرونِ جہلم کی گلی کوچوں، محلوں اور گھروں میں اجنبی نہیں۔ بطور پوسٹ مین خدمات سرانجام دینے والی یہ معروف اور باوقار شخصیت ایمانداری، محنت اور فرض شناسی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

یقیناً جہلم کا شاید ہی کوئی ایسا شہری ہو جس کا کبھی نہ کبھی ان سے واسطہ نہ پڑا ہو، یا جس تک ان کے ہاتھوں کوئی خط، منی آرڈر یا خوشخبری نہ پہنچی ہو۔ چوہدری نذیر احمد نے تپتی دھوپ، جاڑوں کی سردی، بارشوں اور مشکل حالات کی پروا کیے بغیر ہمیشہ وقت پر ڈاک پہنچائی۔ نہ کبھی کسی کی امانت میں خیانت کی اور نہ ہی ذمہ داری سے پہلو تہی کی۔

یہ وہ لوگ ہیں جو محکموں کے ماتھے کا جھومر اور ادارے کی اصل پہچان ہوتے ہیں، مگر ایسے فرض شناس اور ایماندار ملازمین کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ محکمہ کی جانب سے ڈاک کی تقسیم کے لیے چوہدری نذیر احمد کو موٹر سائیکل تو مہیا کی گئی، مگر پٹرول کے اخراجات ادا نہیں کیے جاتے۔ انتہائی محدود تنخواہ پانے والا یہ محنت کش اپنی جیب سے پٹرول ڈالوا کر عوام کی خدمت سرانجام دے رہا ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک ایماندار سرکاری ملازم کو اپنی ڈیوٹی نبھانے کے لیے ذاتی وسائل کیوں استعمال کرنا پڑیں؟ چوہدری نذیر احمد جیسے لوگ ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو بغیر شور مچائے، بغیر خبروں میں آئے، دہائیوں تک نظام کو سہارا دیتے ہیں۔

ہم پاکستان پوسٹ کے اربابِ اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے محنت کش اور دیانت دار ملازمین کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ ان کے بنیادی حقوق، سہولیات اور عزتِ نفس کا بھی خیال رکھا جائے۔

آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری نذیر احمد جیسے لوگ سلام کے مستحق ہیں، اور ہمارا معاشرہ ان پر ہمیشہ فخر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button