جہلم میں ناقص اور مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت عروج پر، فوڈ اتھارٹی خاموش

جہلم: شہر بھر میں ناقص اور مضر صحت اشیائے خور و نوش کی کھلے عام فروخت نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ فوڈ اتھارٹی کے حکام کی خاموشی نے ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے مختلف علاقوں بشمول شاندار چوک، ریلوے روڈ، اولڈ جی ٹی روڈ، سول لائن روڈ، محمدی چوک، قبرستان چوک، روہتاس روڈ، چوک کالا گجراں، بلال ٹاؤن اور مضافاتی بستیوں میں آئس کریم، فروٹ چاٹ، دہی بھلے، سموسے، پکوڑے اور چپس جیسی عوامی خوراکی اشیاء ناقص معیار کے گھی اور غیر معیاری اجزاء سے تیار کی جا رہی ہیں۔
یہ اشیاء نہ صرف صفائی کے اصولوں کے برعکس تیار کی جا رہی ہیں بلکہ ان کے استعمال سے شہری مختلف موزی اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ تاہم اس تمام تر صورتحال کے باوجود پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جس سے عوامی تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور ناقص و مضر صحت اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائیں تاکہ شہریوں کو صاف، محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔



