حکمرانوں کی جہلم کے عوامی مسائل سے لا تعلقی، فلاحی منصوبوں کے فنڈز بحال نہ ہو سکے

جہلم: حکمرانوں کی ضلع بھرکے عوام کے مسائل سے لا تعلقی ، فلاحی منصوبوں کے فنڈز بحال نہ ہو سکے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60/61میں جاری ترقیاتی کام بند، شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے۔
جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے اخبارنویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حلقوں میں مزید ترقیاتی کام کروانے کی بجائے جاری منصوبوں کے فنڈز بھی روک کر عوام کو بیوقوف بنایا جانے لگا۔ جہلم لِلہ ڈیول کیرج وے منصوبے کا تخمینہ 16 ارب روپے لگایا گیااگر حکمران عوام دشمنی کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج یہ روڈ مکمل ہو چکی ہوتی جبکہ تازہ ترین جو تخمینہ لگایا گیا ہے ، تقریبا 45 ارب کے قریب پہنچ گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل سیاست دان ڈیول کیرج وے سمیت تمام ترقیاتی منصوبے مکمل کروانے کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہے۔ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد منتخب ممبران نے عوامی مسائل سے مکمل لا تعلقی اختیار کرلی ہے ۔ ٹوبہ ٹراما سینٹر، جہلم لِلہ ڈیول کیرج وے، جلالپور شریف کندوال نہر، جہلم ٹراما سینٹر، وچلہ بیلہ پل سمیت دیگر منصوبے منتخب ممبران کو منہ چڑھا رہے ہیں ۔
شہری تنظیموں کے عمائدین کا کہناہے کہ سیاست دان انتخابات کے موقع پر آسمان سے تارے توڑ کرلانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد حلقہ کے عوام سے مکمل لا تعلقی اختیار کرلیتے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیاہے کہ ضلع جہلم میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز بحال کئے جائیں تاکہ ضلع جہلم کے شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



