بجلی کا ایک اضافی یونٹ کیسے آپ کا بل دگنا کر سکتا ہے؟

پاکستان میں بجلی کے بل پر حساب کتاب بہت سے افراد کے لیے معمہ بن چکا ہے۔ بجلی کے بلوں میں بھاری ٹیکسز اور خاص طور پر بجلی کے فی یونٹ پر قیمت میں اضافہ سمجھنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہوچکا ہے۔
بجلی کے بل میں اضافے کے حوالے سے ہر دوسرا شخص شکایت کرتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ ایک بھی یونٹ بڑھ جانے پر بجلی کے بل میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ ہر فرد کے لیے اس عمل کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے۔
بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو مختلف سلیبز اور کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور ان کیٹگریز میں پروٹیکٹڈ، ان پروٹیکٹڈ صارفین شامل ہیں۔ جبکہ ان کے بل میں اضافہ یا کمی ان کیٹیگریز پر ہی منحصر ہے۔
دراصل پروٹیکٹڈ صارفین وہ ہوتے ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں، اور ان کی 200 یونٹ استعمال کرنے کی 6 ماہ کی ہسٹری برقرار ہو جبکہ ان پروٹیکٹڈ صارفین وہ ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ یا وہ افراد جو بے شک پروٹیکٹڈ ہیں لیکن 6 ماہ کے دوران کسی ایک بھی مہینے میں ان کا بل 200 یونٹ کے بجائے 201 یونٹ پر بھی چلا جائے تو ایسے صارفین بھی ان پروٹیکٹیڈ کیٹیگری میں چلے جاتے ہیں، جس سے ان کے بل پر عائد دیگر ٹیکسز بھی بڑھ جاتے ہیں۔
پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فی ٹیرف کی قیمت
بجلی کے فی ٹیرف کی قیمت کا تعین بھی انہی کیٹیگریز اور سلیبز پر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین میں 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو لائف لائن صارفین کہا جاتا ہے۔ جنہیں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 3 اعشاریہ 95 یعنی تقریباً 4 روپے پڑتی ہے۔ انہی لائف لائن صارفین میں کچھ صارفین جو 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں بجلی کا فی یونٹ 7 اعشاریہ 74 روپے کا پڑتا ہے۔ جبکہ 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 10 اعشاریہ 6 روپے ہے۔ واضح رہے کہ اس فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔
ان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فی ٹیرف کی قیمت
ان پروٹیکٹڈ صارفین میں اگر کوئی پروٹیکٹڈ صارف منتقل ہوتا ہے تو اسے 100 یونٹ استعمال کرنے پر فی یونٹ 16 اعشاریہ 48 روپے کا پڑے گا۔ اسی طرح اگر کوئی صارف مسلسل 5 مہینے تک 100 یونٹ استعمال کرتا رہا ہے۔ اور چھٹے مہینے میں اگر 101 یونٹ استعمال کرلیے تو وہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے ان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہوجائے گا، یوں اسے بجلی کا فی یونٹ 10 اعشاریہ 6 روپے کے بجائے 22 اعشاریہ 95 یعنی تقریباً 23 روپے کا پڑے گا۔
اسی طرح ان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں 201 سے 300 یونٹ کے درمیان بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ 27 اعشاریہ 14 روپے کے حساب سے بل آئے گا۔ 301 سے سے 400 یونٹ استعمال کرنے والے افراد کے لیے فی یونٹ 32 اعشاریہ 03 روپے کے حساب سے بل کی کیلکلولیشن کی جاتی ہے۔
صرف ایک یونٹ، 400 کے بجائے 401 یونٹ استعمال کرنے سے بجلی کا فی یونٹ 32 اعشاریہ 03 کے بجائے 35 اعشاریہ 25 روپے کا پڑے گا۔ اور 401 سے 500 تک یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ 35 اعشاریہ 25 روپے ہے۔
اس حساب سے 501 سے 600 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 36 اعشاریہ 66 روپے ہے۔ جبکہ 601 سے 700 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی کا فی یونٹ 37 اعشاریہ 80 روپے ہے۔ اور 700 سے زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے افراد کے لیے فی یونٹ 42 اعشاریہ 72 روپے ہے۔
یاد رہے کہ ان یونٹس میں ٹیکسز شامل نہیں ہے۔ اور ان پروٹیکٹڈ صارفین پر ٹیکسز بھی پروٹیکٹڈ صارفین کے مقابلے میں زیادہ ہیں، مگر واضح رہے کہ ایک بھی یونٹ بڑھ جانے سے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے، نا صرف اضافہ بلکہ کیٹیگری بھی بدل جاتی ہے۔
ان پروٹیکٹڈ صارف پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں کیسے منتقل ہوسکتا ہے؟
اگر کوئی ان پروٹیکٹڈ صارف پروٹیکٹڈ صارفین کی کیٹیگری میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ چیز ضروری ہے کہ وہ کم از کم 6 مہینے تک بجلی کا استعمال 200 یونٹ تک محدود کردے۔ جب مسلسل 6 مہینے تک وہ بجلی کے 200 یونٹ استعمال کرتا رہے گا تو وہ پروٹیکٹڈ صارفین کی کیٹیگری میں شامل ہوجائے گا۔
بجلی کے بل میں کون کون سے ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں؟
بجلی کے بل میں جنرل سیلز ٹیکس، ٹی وی فیس، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، فنانس چارجز اور کواٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ چارجز شامل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تمام ٹیکسز پروٹیکٹڈ صارفین پر عائد نہیں کیے جاتے۔ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے صارفین کے بل میں صرف جنرل سیلز ٹیکس، فنانس چارجز اور کواٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ چارجز عائد کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح ان پروٹییکٹیڈ صارفین کے بل میں جنرل سیلز ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، فنانس چارجز اور کواٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ چارجز کے علاوہ ٹی وی فیس بھی ٹیکس کی مد میں لی جاتی ہے۔
لیکن واضح رہے کہ ان ٹیکسز کی شرح بھی پروٹیکٹڈ یا ان پروٹیکٹڈ صارف کے استعمال کیے گئے یونٹس پر ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ جتنے یونٹس ایک شخص استعمال کرے گا۔ اس کے بل میں ٹیکسز کی شرح بھی اسی کی بنیاد پر لگائی جاتی ہے۔



