جہلم: ہوٹل مالکان نے بھی خود ساختہ مہنگائی کر کے حکومت پنجاب کے قوانین پاؤں تلے روند ڈالے

جہلم شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں ہوٹل مالکان نے خود ساختہ مہنگائی کر کے حکومت پنجاب کے قوانین پاؤں تلے روند ڈالے ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی غفلت و لاپرواہی سے ہوٹل مالکان نے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا ہے، غیر معیاری ، ناقص مضر صحت کھانوں کے بل فائیو سٹار ہوٹلز سے بھی زیادہ وصول کیے جانے لگے۔
واپڈا کی طرح من مرضی سے ہوٹل مالکان شہریوں سے اضافی نرخ وصول کرنے میں مصروف، شہر اور جی ٹی روڈ پر قائم ہوٹلز پر بھی سروسز چارجز کے نام پر ہر گاہک سے روزانہ ہزاروں روپے وصول کئے جانے لگے ، مقامی افسران اور متعلقہ محکموں کی عدم دلچسپی سے شہر سمیت جی ٹی روڈ پر قائم ہوٹلوں کے مالکان شہریوں سے کئی گنا اضافی بل وصول کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کھانے معیار میں سب سے کم اور ریٹ میں سب سے زیادہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پر ائس کنٹرول مجسٹر یٹس شکایت کنندہ کو یہ کہہ کر خاموش کروا دیتے ہیں کہ ہوٹلز ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں جس کیوجہ سے ہوٹلز مالکان نے جنگل کا قانون نافذ کرکے من مرضی کے نرخ وصول کررہے ہیں ، ہوٹلوں میں ناقص مصالحہ جات ، غیر معیاری کوکنگ آئل ،گھی ،مٹن و بیف مکس کرنے کی شکایات بھی زبان زدِ عام ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنگل سٹار ہوٹلز مالکان فائیو سٹار ہوٹلز کے بل وصول کررہے ہیں ، غیر معیاری ناقص منرل واٹر کی بوتل 1 سو50 روپے ، سلاد کھیرا بند گوبھی 80 روپے ، رائتہ 3 سو20 روپے ، روٹی کی قیمت 30 سے 45 روپے ، چکن ہانڈی 18 سو روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔
انتظامیہ سب کچھ جاننے کے باوجود ہوٹلز مالکان کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ کولڈ ڈرنکس کی قیمت بھی من مانی وصول کی جارہی ہے ۔ ہوٹلز کے باورچی خانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور کاریگروں کے پاس میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹس موجود نہیں۔
شہریوں نے ڈسٹرکٹ کنزیومر کونسلز سے مطالبہ کیاہے کہ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مذکورہ ہوٹلز مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں تاکہ شہریوں کو ارزاں نرخوں پر حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق کھانے میسر آسکیں۔



