دینہ میں ناقص اور مضر صحت کھوئے کی فروخت ، پنجاب فوڈ اتھارٹی خاموش

دینہ شہر اور اس کے مضافات میں بیکریوں اور دودھ دہی کی دکانوں پر ناقص اور مضر صحت کھوئے کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے۔ عوام کی صحت کے لیے خطرہ بننے والے اس عمل پر محکمہ پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں ہے۔
محکمہ کی نااہلی یا ملی بھگت؟
ذرائع کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم کی ٹیم کی مبینہ نااہلی یا ملی بھگت کے باعث دکانداروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کچھ اہلکار کارروائی سے پہلے دکانداروں کو خبردار کر دیتے ہیں، جس کے بعد وہ مضر صحت کھوئے کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کر دیتے ہیں۔
جب ٹیم چیکنگ کے لیے پہنچتی ہے تو دکانیں صاف نظر آتی ہیں، لیکن ان کے جاتے ہی ناقص کھوئے کی فروخت دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
افسران بالا کو سب اچھے کی رپورٹ
اکثر اوقات محکمہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم محض گاڑیوں میں گشت کرتی دکھائی دیتی ہے اور افسران بالا کو سب اچھے کی رپورٹ دے دیتی ہے۔ اگر کوئی ناقص چیز برآمد ہو بھی جائے تو معمولی جرمانے کے بعد دکانداروں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جو دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کر دیتے ہیں۔
عوام کا احتجاج اور مطالبات
دینہ کے عوام نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے نااہل اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے جو محکمے کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ایماندار افسروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جائیں، جو تمام دکانداروں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ ناقص اور مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ عوام کی صحت کو لاحق خطرات ختم کیے جا سکیں۔
عوامی صحت کے لیے اقدامات ناگزیر
دینہ کی عوام نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ملاوٹ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔



