لوٹن میں صحت کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے، ڈاکٹر طاہر محمود

لوٹن: کشمیری اوریجن میڈیکل پروفیشنل برطانیہ کے ایوارڈ یافتہ لوکل جی پی ڈاکٹر طاہر محمود نے بتایا ہے کہلوٹن میں صحت عامہ میں پائے جانے والے بعض مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف کمپئینز لانچ کی گئی ہیں ایک کمپئین میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ لوٹن قصبہ کے پسماندہ علاقوں میں کینسر کی شرح بہت زیادہ ہے کینسر کا تناسب لوٹن کے پسماندہ علاقوں کروالی، فارلے اور لمبری میں ایک عشاریہ 6 فیصد لوٹن کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے اس کا مطلب ہے کہ لوٹن کے پسماندہ علاقوں میں دیگر جگہوں کے مقابلے میں زندہ رہنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
کینسر کے حوالے سے آگاہی پروگرام گزشتہ روز وِگمور ایوینجلیکل چرچ میں منعقد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں مختلف شعبوں سے متعلق شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف ماہرین نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کمیونٹی کے ایک قابل ذکر حصے میں پائے جانے والے اس مسئلے کے حل کیلئے رکاوٹوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
کوٹلی آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طاہر محمود نے برطانیہ کے کشمیری اوریجن ڈاکٹروں کی خدمات کو روشناس کرانے کا بیڑا بھی اٹھا رکھا ہے۔
دریں اثناء انہوں نے بتایا ہے کہ نئے اعدادوشمار کے مطابق لوٹن میں پیدا ہونے والے لوگوں کی متوقع عمر کاؤنٹی میں سب سے کم ہے۔ دفتر برائے قومی شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، بیڈفورڈ شائر میں حالیہ لوٹن میں نوزائیدہ بچوں کی متوقع زندگی سب سے کم ہے لیکن بیڈفورڈ شائر، لوٹن اور ملٹن کینز انٹیگریٹڈ کیئر بورڈ (BLMK ICB) نے کہا ہے کہ علاقوں کے درمیان فرق کی وضاحت کے لیے موجود ڈیٹا ناکافی ہے۔
ڈاکٹر طاہر محمود نے کہا کہ عمومی طور پر صورتحال تشویشناک ہے ۔ خیال رہے کہ لوٹن بورو کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ زندگی کی توقع بہت سے عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جیسے کہ تمباکو نوشی اور خوراک، صحت کی خدمات تک رسائی اور استعمال اور وسیع تر سماجی و اقتصادی عوامل جیسے کہ رہائش، تعلیم اور آمدنی کے ساتھ ساتھ صحت سے متعلق رویے۔ کسی علاقے میں محرومی کی مجموعی سطح کے عوامل شامل ہیں بہت سے ایسے عوامل ہیں جو اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ کیوں لوٹن میں متوقع عمر اس کے پڑوسیوں سے کم ہے۔
ڈاکٹر طاہر محمود نے کہا کہ اس طرح کی مزید ریسرچ کی اشد ضرورت ہے اور مرکزی حکومت کو لوٹن جیسے پسماندہ علاقوں میں وافر فنڈز مہیا کرنے چاہئیں تاکہ صحت عامہ میں پائے جانے والے عدم مساوات کو دور کیا جاسکے۔



