جہلم میں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری، صارفین پریشان

1
جہلم شہر میں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے گھریلو صارفین اور کاروباری افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکومت کی جانب سے گیس کی فراہمی میں ناکامی کے باوجود تین سو فیصد سے زائد قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
سماجی، رفاہی اور فلاحی تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں گیس کی قلت کے باعث گھریلو خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو امور نمٹانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کاروباری افراد بھی گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے روزگار کو جاری رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے شکایت کی کہ گیس کی عدم فراہمی کے باوجود بھاری ماہانہ بل بھیج دیے جاتے ہیں جو صارفین کے ساتھ کھلی زیادتی کے مترادف ہیں۔ عمائدین نے کہا کہ اگر حکومت چوبیس گھنٹے گیس فراہم نہیں کر سکتی تو حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے اور گیس کی فراہمی کے طے شدہ شیڈول پر عمل کیا جائے تاکہ صارفین کے گھریلو اور کاروباری بجٹ پر کم سے کم اثر پڑے۔
شہریوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی قلت اور مہنگائی نے ان کی زندگیوں کو دوگنا مشکل بنا دیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر گیس کی سپلائی کو یقینی بنائے، قیمتوں میں اضافے کو واپس لے، اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے تاکہ سردیوں کے موسم میں عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
صارفین نے حکومت سے درخواست کی کہ نہ صرف گیس کی فراہمی کو مستقل اور یقینی بنایا جائے بلکہ گیس کے نرخوں میں کیا گیا حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ مزید برآں، گیس کی لوڈ شیڈنگ کا شیڈول واضح کیا جائے تاکہ عوام کو اپنے روزمرہ کے معمولات کو منظم کرنے میں سہولت مل سکے۔



