بیرسٹر امجد ملک کے اوورسیز کمیشن کا وائس چیئرمین بننے پر فخر ہے، کمیونٹی شخصیات

گریٹر مانچسٹر/ بولٹن: معروف برطانوی قانون دان بیرسٹر امجد ملک کے اوورسیز کمیشن کا وائس چیئرمین منتخب ہونے پر بیرون ملک آباد پاکستانیوں اور کشمیریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
نارتھ ویسٹ کے مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں انہیں ایک نیا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ بیرسٹر امجد ملک ایک قانون دان ہونے کی حیثیت سے وہ ایسوسی ایشن آف پاکستان لائرز کے چیئرمین سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائٹس پاکستان کے تاحیات رکن اور ایک زیرک سیاستدان بھی ہیں، اس لیے ان کا شمار بین الاقوامی ماہر قانون اور چوٹی کے سیاستدانوں میں کیا جاتا ہے۔
سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ سجاد کریم، ڈاکٹر لیاقت ملک ،مقبول ملک، اوورسیز ڈویلپمنٹ بزنس فورم کے چیئرمین چوہدری مسرت علی نے کہا کہ بیرسٹر امجد ملک نے آج سے26سال قبل مولانا شاہین الرحمٰن کا ہائی پروفائل کیس لڑنے کیلئے نامور وکلا انکاری تھے مگر انہوں نے وہ کیس اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے قانونی داؤ پیچ استعمال کئے کہ بالآخر5سال کی مسلسل کوششوں کے بعد عدالت کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ان کی اس کامیابی نے برطانیہ کے سیاسی اور عدلیہ کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔
مسلم لیگ ن نارتھ ویسٹ کے صدر راجہ سجاد حسین مرکزی ڈپٹی سیکرٹری راجہ جلیل الرحمٰن، چوہدری عبدالکریم، ہارون کھٹانہ، کونسلر عتیق الرحمٰن، تحریک حق خوددارادیت کے وائس چیئرمین امجد مغل، علامہ شاہجہان مدنی، قاری جاوید اختر، راجہ عبدالقیوم، راجہ فضل مجدد نے کہا کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اور کشمیری امجد ملک کی عوامی خدمات پر نہ صرف فخر کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں تارکین وطن کے مسائل کے حل کے لیے مثبت انداز میں آواز اٹھاتے ہیں، اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
مسلم کانفرنس برطانیہ کے سابق صدر چوہدری بشیر رٹوی، شیخ سرفراز حسین، شیخ سلیم محی الدین ایڈووکیٹ، کونسلر مدثر دین، بابو علی اصغر، چوہدری عنایت علی، چوہدری ندیم اقبال سمیلہ نے کہا کہ امجد ملک خود برطانوی شہری ہیں اور وہ تارکین وطن کے مسائل کو بخوبی جانتے ہیں کیونکہ اوورسیز پاکستانی کمیونٹی لاتعداد مسائل کا سامنا کررہی ہے، جس میں وطن واپسی پر ایئر پورٹ پر عزت و احترام کی نگاہ کے بجائے ناروا سلوک روا رکھا جانا سرکاری دفاتر میں زمینوں کے مسائل پر مشکلات کا سامنکا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمہ بازی میں اداروں کی جانب سے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا جس پر کمیونٹی نے اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مجد ملک سے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کریں۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



