جہلم میں غیر معیاری تیل اور گھی میں پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری فیشن بن گیا، فوڈ اتھارٹی خاموش


جہلم: پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران غائب، غیر معیاری تیل اور گھی میں پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری فیشن بن گیا۔ پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری میں میدے کے بجائے آٹا استعمال کیا جانے لگا، جس کے باعث شہری پیٹ اور معدے کی بیماریوں سمیت کھانسی اور دمے کی بیماریوں کا شکار ہونے لگے۔
جہلم شہر سمیت ملحقہ آبادیوں میں جگہ جگہ چھوٹی بڑی دکانیں اور ٹھیلے لگے ہوئے ہیں، جہاں مضر صحت پکوڑوں، سموسوں اور چپس وغیرہ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ متعلقہ اتھارٹی کے ذمہ داران نے شہریوں کے مسائل سے مکمل لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے۔
جہلم شہر سمیت نواحی علاقوں میں ناقص گھی اور خوردنی تیل استعمال کر کے نہ صرف شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے بلکہ پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری میں میدے کے بجائے آٹے کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ناقص طریقے سے پکوڑے، سموسے اور چپس تیار کیے جاتے ہیں، وہیں ان اشیاء کو من مانی قیمتوں پر فروخت بھی کیا جاتا ہے، جو متعلقہ ذمہ داران کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ حکام بالا چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو فعال بنائیں تاکہ شہری مضر صحت اشیاء فروخت کرنے والے مافیا کے ہاتھوں لٹنے اور بیماریوں سے بچ سکیں۔



