عارف علوی نے کبھی صدر کے عہدے کا پاس نہیں رکھا، بلال اظہر کیانی

مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ عارف علوی نے کبھی صدر کے عہدے کا پاس نہیں رکھا۔

بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کہ عارف علوی قانون اور آئین شکن شخص تھے، عارف علوی ایک جماعت اور گروہ کے آلہ کار کا کردار ادا کرتے رہے، انہوں نے کبھی صدر کے عہدے کا پاس نہیں رکھا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ انتخابات کے نتیجے میں کوئی ایک جماعت حکومت نہیں بنا سکی جب کے بعد ہم نے پیپلز پارٹی سے اتحاد کی بات کی اور اس اتحاد کے نتیجے میں شہباز شریف وزیراعظم، آصف زرداری صدر بنے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ جمہوری جماعتیں آپس میں گفتگو کرتی ہیں، 2013 میں 35 پنکچر اور 4 حلقوں کی بات کی گئی، باتیں کرنے والوں نے بعد میں معافی مانگ کر شرمندگی اٹھائی۔

انہوں نے کہا کہ اب ایک گروہ بہت شورمچارہاہے، اس کی حرکتیں وہی ہیں، 2018 میں آر ٹی ایس ڈاؤن ہوا انہیں نتائج قبول ہوگئے، 2024 میں پھر وہی رونا دھونا جاری ہے۔

بلال اظہرکیانی نے کہا کہ مختلف کمپنیوں کے سروے دیکھ لیں نتائج بھی وہی آئے ہیں، الیکشن پر اعتراض ہے تو عدالت اور الیکشن کمیشن جائیں، ایک مخصوص جماعت لڈو الٹانے کے چکر میں رہتی ہے۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ایک بار پھر مفاہمت کی بات کی ہے، انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی شرائط کو خود توڑا، شوکت ترین نے بانی پی ٹی آئی کے ورغلانے پر آئی ایم ایف کو چٹھیاں لکھیں اور آج پھر بانی پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو چٹھی لکھی ہے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ چٹھی کے بدلے آئی ایم ایف سے ایک زور دار جواب ملا، معاشی مسائل سے نمٹنے والی حکومت کو روکنا انکی غلط فہمی ہے۔

بعد ازاں نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ نئی کابینہ اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔ حکومت سازی کے وقت بھی اتحادی جماعتوں کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، کابینہ میں شمولیت سے متعلق پیپلز پارٹی کا اپنا مؤقف ہے۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی چیلنجز بھی سنگین ہیں، آج بھی ہمارے فارن ایکس چینج اس سطح پر نہیں جہاں ہونے چاہئیں، شہباز شریف نے سب سے پہلے معاشی معاملات پر میٹنگز کیں، انہوں نے پارلیمنٹ میں مفاہمت کی بات کی۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے کبھی بھی ہاتھ آگے بڑھانے سے گریز نہیں کیا، ہم اُمید رکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کے لوگ بدل جائیں گے اور مثبت کردار ادا کریں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ مل کر کام کریں، اگر پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت کو مفلوج کر دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button