بیرونس سعیدہ وارثی نے کنزرویٹیو پارٹی پر منافقت اور دائیں بازو کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا

لندن: برطانیہ کی پہلی مسلم خاتون کیبنٹ منسٹر بیرونس سعیدہ وارثی نے کنزرویٹیو پارٹی پر منافقت دھرے معیار اور دائیں بازو کی سیاست کی طرف بڑھنے کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کنزرویٹیو وہپ سے دستبردار ہونے کے باوجود وہ ہاؤس آف لارڈز کی رکن رہیں گی اور آزادانہ طور پر بیرونس کی خدمات سرانجام دیتی رہیں گی۔

سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے دور میں حکومت کیلئے خدمات سرانجام دینے والی بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا کہ پارٹی اب ویسی نہیں رہی جیسے اس وقت تھی جب وہ حکومت کا حصہ تھیں۔

دوسری طرف کنزرویٹیو پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعیدہ وارثی کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ مبینہ طور پر تقسیم کرنے والی زبان استعمال کرنے پر ان کے خلاف اس ہفتہ تحقیقات کی جانی تھیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام شکایات کی بغیر کسی تعصب کے تحقیق کی جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرونس سعیدہ وارثی کے خلاف شکایت مریہ حسین سے متعلق ایک پوسٹ کے حوالے سے کی گئی تھی۔ بیرونس وارثی نے مریہ حسین کو عدالت سے بری ہونے پر مبارکباد دی تھی۔

گزشتہ روز اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مریہ حسین کو مبارکباد دینے کا میرا فیصلہ درست تھا، مجھ سے کہا گیا تھا میں مریہ حسین کی عوامی سطح پر حمایت نہ کروں لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں ہونے والے مظاہرے میں مریہ حسین نے ایک ایسا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر سابق وزیراعظم رشی سوناک اور سابق ہوم سیکرٹری سویلا بریورمین کو کوکونٹ کے طور پر دکھایا گیا تھا، جس پر ان کے خلاف نسلی منافرت کی بنیاد پر امن و عامہ کی خلاف ورزی کا جرم کرنے کا الزام لگا کر مقدمہ بنایا گیا تھا تاہم دو روزہ سماعت کے بعد جج نے انہیں باعزت بری کر دیا تھا۔

بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ میرے خلاف شکایت کی تحقیقات بند کمرے میں کی جانی تھیں ایسے حالات میں میں نے مناسب سمجھا کہ پارٹی سے استعفیٰ دیکر کھلے اور شفاف طریقے سے اس معاملے سے نمٹوں۔ سعیدہ وارثی اسلاموفوبیا کے الزامات اور کنزرویٹیو رہنماؤں کی طرف سے استعمال کی جانے والی زبان پر سویلا بریورمین کے علاوہ ٹوری پارٹی کی قیادت کے امیدواروں رابرٹ جینرک اور کہمانیوک کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھاری دل کے ساتھ کیا ہے، یہ میرے لئے افسوسناک دن ہے ۔ میں کنزرویٹیو ہوں اور رہوں گی، لیکن افسوس ہے کہ موجودہ پارٹی ویسی نہیں جس میں میں نے شمولیت اختیار کی تھی اور کابینہ میں خدمات سرانجام دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان مسائل کا تذکرہ اپنی نئی کتاب ’’مسلم ڈونٹ میٹر‘‘ میں بھی کریں گی۔ 2010 کے انتخابات میں کنزرویٹیو پارٹی کی کامیابی کے بعد کیبنٹ کا رکن اور پارٹی کا شریک چیئر بن کر تاریخ رقم کی تھی لیکن 2014 میں انہوں نے اسرائیل غزہ تنازع پر حکومتی موقف کے خلاف بطور احتجاج منسٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

انہوں نے اسلاموفوبیا پر پارٹی کی انکوائری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ سعیدہ وارثی کو 2007 میں ہاؤس آف لارڈز کا رکن بنایا گیا تھا۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button