دینہ میں مصنوعی مہنگائی عروج پر، شہریوں کی مشکلات میں اضافہ، ضلعی انتظامیہ کے صرف دعوے

دینہ: رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی دینہ میں مصنوعی مہنگائی نے شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
دکانداروں کی من مانی قیمتوں کے باعث عوام کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے صرف دعوے کر رہی ہے۔ سبزیاں، پھل اور مرغی کا گوشت عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں، جس سے شہری سخت پریشان ہیں۔ افطاری کے لیے ضروری اشیاء جیسے آلو، پیاز، کیلا، سیب، امرود اور مالٹا مہنگے ہونے کے باعث عام آدمی کے لیے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔
اسی طرح مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری علاقوں میں یہ 60 سے 80 روپے فی کلو جبکہ دیہی علاقوں میں 100 روپے فی کلو تک مہنگا ہو چکا ہے۔ مٹن اور بیف بھی سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ دالوں، بیسن اور آٹے کے نرخ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مرغی فروشوں کا مؤقف ہے کہ وہ خود مرغی مہنگے داموں خرید رہے ہیں اور انتظامیہ انہیں ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جو کہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ مہنگی خریداری کرتے ہیں تو سستا فروخت کیسے کر سکتے ہیں؟۔
دوسری جانب شہریوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ صرف زبانی دعوے کر رہی ہے لیکن عملی طور پر مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام نظر آ رہی ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں اور عوام کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ ضلعی انتظامیہ کے خلاف بھی نوٹس لیا جائے جو صرف دعوے کر رہی ہے لیکن مہنگائی کے خاتمے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہی۔



