برطانیہ میں لیبر حکومت نے غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن روک دیا

مانچسٹر: برطانوی معیشت پر کئی سال سے مسلسل بوجھ بننے والے غیر قانونی تارکین وطن کیلئے لیبرحکومت ڈھال بن گئی۔گزشتہ 75سال سے آبادی میں تیزی کیساتھ اضافے اورملکی وسائل پر دبائو ڈالنے والے غیر قانونی تارکین کیخلاف لیبر حکومت نے جاری کریک ڈائون روک دیا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق لیبرپارٹی دو بڑی قانونی تبدیلیوں کو متعارف کرانے میں تاخیر کر رہی ہے جس کے تحت مالکان کو غیر ملکی مزدوروں کو اگلے سال پارلیمنٹ کے دوسرے اجلاس تک محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ امیگریشن نے برطانوی آبادی میں حیرت انگیز طو رپر اضافہ کیا ہے بالخصوص انگلینڈ اور ویلز کی آبادی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

برطانیہ میں تیزی کیساتھ بڑھتی ہوئی امیگریشن نے انگلینڈ اور ویلز کی آبادی کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے سال 2022.23کے دوران صرف انگلینڈ اورویلز کی آبادی میں6لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے جو 1949کے بعد سب سے بڑا ریکارڈ مانا جا رہا ہے 2019 میں بریگزٹ کے بعد ایک نیا اور لبرل امیگریشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے آبادی میںزیادہ تر اضافہ دو نئے ویزوں کی وجہ سے ہوا۔

ایک کیئر ورکرز کے لیے تھا برطانوی کارکنوں کے زیر تسلط شعبے میں اجرت میں اضافے کے بجائے اس نے ان کو کم کیا۔گریجویٹ ویزا عالمی معیار کے ٹیلنٹ کو گریجویشن کے بعد برطانیہ میں دو سال کام کرنے کی پیشکش کر کے اپنی طرف متوجہ کرنیوالا تھا اس کے بجائے اس نے برطانوی مارکیٹ کے دروازے پر قدم جمانے کی پیشکش کرتے ہوئے مشکوک ایک سالہ پوسٹ گریڈ کورسز میں ایک بونانزا پیدا کیا۔

ان میں سے بہت سے طلباء ٹیک یونیکورنز شروع کرنے کے بجائے ڈیلیورو کے لیے غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیںدونوں ویزوں نے انحصار کرنیوالوں کو ساتھ لانے کی اجازت دے دی جس سے گلوبل ساؤتھ میں پورے خاندان یہاں ڈیمپ کرنے پر مجبور ہو گئے ۔اس امر کے نتیجے میں برطانوی معیشت نے کم ہنر مند کارکنوں کی ایک بہت بڑی آمد کو برداشت کیالاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن ملک میں داخل ہوئے۔

بلیئر حکومت نے 1990کی دہائی میں ہجرت کے ملک سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے ملک میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا وعدے کے مطابق اقتصادی تیزی کی بجائے فی کس جی ڈی پی میں کمی دیکھی گئی مزدوری کی یہ زیادتی جو مکمل طور پر قانونی امیگریشن کی سطح کو بلند رکھنے کے حکومتی فیصلوں کا نتیجہ ہے نے معیشت کو تباہ کر دیا۔تارکین وطن نے بنیادی ڈھانچے پر زیادہ دباؤ ڈالا ہے بوڑھے افراد کی صحت کی دیکھ بھال پر کثیر ملکی سرمایہ خرچ ہو رہا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے ایک طویل عرصہ تک تارکین وطن کو روکنے کیلئے نت نئے اقدامات اور قوانین اپنائے گئے جس پر اس پر خطیر سرمایہ خرچ کیا گیا مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ۔ بالخصوص سابق حکمران جماعت کو روانڈا سکیم سمیت دیگر امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے کڑی عوامی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اب لیبر حکومت کیلئے بھی تارکین وطن کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوں گے تاہم لیبر پارٹی اپنے انتخابی منشور میں روانڈا جیسی سکیموں کے خاتمے اور تارکین وطن کیلئے نرم رویہ رکھنے کی پالیسی اپنا نے کی بارہا اعلان کر چکی ہے لہٰذاغیر قانونی تارکین وطن اپنے لیے لیبر پارٹی کو ایک مضبوط ڈھال تصور کرتے ہوئے پر امید ہیں کہ انکے اچھے دن آنے و لے ہیں ۔

ممکنہ طو رپر مستقبل قریب میں ہوم آفس ایک بارڈر سیکیورٹی بل متعارف کرائے گا جس کو نیشنل کرائم ایجنسی، بارڈر فورس اور ایم آئی فائیو کے تفتیش کاروں اور افسران کو انسداد دہشت گردی کے طرز کے اختیارات دے کر لوگوں کی اسمگلنگ کرنیوالے گروہوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے کیلئے نئی بارڈر سیکیورٹی کمانڈ کو تقویت دے گا۔

دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 کے وسط تک تقریبا 11لاکھ لوگ برطانیہ آئے جبکہ 4لاکھ62ہزار واپس چلے گئے۔6لاکھ 22ہزار افراد کی ہجرت ہوئی جو بریگزٹ سے قبل کی سطح ڈھائی لاکھ سے د گنا سے بھی زائد ہے۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button