جہلم میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، صارفین پریشان

جہلم میں روزمرہ استعمال ہونے والی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔
گوشت، دودھ، دہی، روٹی، گھی، چاول، دالیں، تیل اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مکمل خاموشی نے عوامی اضطراب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی بے حسی اور غفلت کے باعث چند منافع خور اور بااثر تاجر کھلے عام صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ چھوٹے دکانداروں نے شکایت کی ہے کہ اصل ذمہ دار بڑی مارکیٹوں اور مارٹس میں بیٹھے وہ تاجر ہیں جو جان بوجھ کر نرخنامے بڑھا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چھوٹے دکاندار بھی اشیاء مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ان دکانداروں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کارروائیاں کرنے کے بجائے چھوٹے کاروباری حضرات کو نشانہ بناتی ہے، ان پر جرمانے عائد کرتی اور بعض اوقات مقدمات بھی درج کرواتی ہے۔ جبکہ اصل گراں فروش تاجر بدستور آزاد ہیں اور بااثر ہونے کے باعث قانون کی گرفت سے باہر نظر آتے ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق جہلم شہر میں چند مخصوص بااثر تاجر گروہ گزشتہ کئی برسوں سے قیمتوں میں من مانا اضافہ کرتے آ رہے ہیں، مگر انتظامیہ صرف کاغذی کارروائیوں اور اعلانات تک محدود ہے۔ عوامی شکایات کے باوجود کوئی مؤثر عملی اقدام نظر نہیں آتا، جس سے انتظامیہ کی "ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی واضح ہو جاتی ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا سدباب کریں اور گراں فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب، سفید پوش اور دیہاڑی دار طبقہ اس مہنگائی کے طوفان میں بری طرح پس رہا ہے اور حکومت کی خاموشی ان کے لیے مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔



