جہلم میں مسافر گاڑیوں کے خستہ حال ٹائر اور ناقص حالت، انسانی جانوں کے لیے خطرہ

جہلم شہر میں چلنے والی مسافر گاڑیاں، خاص طور پر بسیں، ہائی ایسز اور وینز اپنی خستہ حالی اور پرانے، بوسیدہ ٹائروں کے باعث شہریوں کی جانوں کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
روزانہ سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کے باوجود متعلقہ محکموں کی خاموشی نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مسافر گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہے جبکہ حقیقت میں یہ گاڑیاں سڑکوں پر موت کا سامان بن کر رواں دواں ہیں۔
جہلم کے لاری اڈہ اور گردونواح کے مختلف مقامات سے سفر کرنے والے مسافروں سے تو کرایہ پورا لیا جاتا ہے، لیکن گاڑیوں کی حالت دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انھیں جان بوجھ کر خطرے کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ لاری اڈے پر نہ صرف صفائی کا فقدان ہے بلکہ پارکنگ اور گاڑیوں کے کھڑے ہونے کا نظام بھی انتہائی ناقص ہے۔ گاڑیوں کے مالکان اور لاری اڈہ انتظامیہ کی لاپروائی نے اس مقام کو بدنظمی اور بدنصیبی کی علامت بنا دیا ہے۔
جہلم تا پنڈدادنخان، جہلم تا دینہ، جہلم تا منڈی بہاؤالدین اور جہلم تا میرپور چلنے والی گاڑیوں کی اکثریت نہ صرف فنی طور پر ناکارہ ہو چکی ہے بلکہ ان کے پرانے اور خراب ٹائر کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود نہ تو ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی فٹنس رپورٹ کا باقاعدہ معائنہ ہوتا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔



