پنڈدادنخان کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں سہولیات کا شدید فقدان


پنڈدادنخان: تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پنڈدادنخان میں دور جدید میں بھی سرجن ڈاکٹر، آئی سپیشلسٹ، چائلڈ سپیشلسٹ، ایم ایل سی (پوسٹ مارٹم) سمیت دیگر مستقل ڈاکٹرزموجود نہیں۔ بلڈبینک بھی نہیں، ادویات کی کمی اپنی جگہ برقرار ہے۔ علاقہ بھر میں کوالیفائیڈ ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں، ایمرجنسی کیسیز میں عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جہلم کے حلقہ پی پی 26 تھری جس کی آبادی 6 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، سینکڑوں دیہاتوں کی تعداد جو پنڈدادنخان شہر سے دوری پر ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو پنڈدادنخان شہرٹی ایچ کیو ہسپتال لانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر مریض بمشکل پنڈدادن خان پہنچتے ہیں لیکن ڈاکٹرزاور سہولیات کی کمی کیوجہ مریضوں کو راولپنڈی ریفر کردیاجاتا ہے۔ گائناکالوجسٹ کی موجود گی کے باوجود زیادہ تر لوگ ڈیلیوری ایمرجنسی کیسز میں پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، لوگ سرکاری ایمبولینس نہ ملنے کی وجہ سے پرائیویٹ گاڑیوں کی بکنگ کرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے واضح احکامات کے باوجود تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پنڈ دادن خان میں فالج کے انجکشن کی سہولت موجود نہیں۔ علاقہ کے عوام نے وزیراعلی پنجاب سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔



