جہلم میں سود کا مکروہ دھندہ عروج پر، درجنوں خاندان بربادی کے دہانے پر پہنچ گئے

جہلم شہر اور اس کے گرد و نواح میں سود کا غیر قانونی کاروبار خطرناک حد تک پھیل چکا ہے، جس کے باعث درجنوں غریب اور سفید پوش خاندان شدید مالی و ذہنی اذیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

سودی کاروبار میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ غیر مقامی عناصر بھی شامل ہیں، جبکہ اس مکروہ دھندے میں اب مردوں کے ساتھ خواتین کی شمولیت بھی سامنے آ رہی ہے۔

ایک لاکھ روپے کے عوض 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ سود وصول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث سود خور چند ہی برسوں میں کروڑ پتی بن چکے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان سڑکوں پر دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔ سود کی رقم لینے والے کئی افراد مجبوری کے تحت کاروبار یا گھریلو ضروریات کے لیے اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں، مگر بعد ازاں نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سود خور افراد بظاہر گاڑیوں اور جائیداد کے دفاتر قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ عناصر رقم دیتے وقت متاثرہ افراد سے خالی چیک، اسٹامپ پیپرز پر دستخط اور دیگر کاغذات اپنے پاس محفوظ کر لیتے ہیں، جنہیں بعد میں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض کیسز میں خالی چیک بینک میں جمع کروا کر شریف اور مجبور خاندانوں کو عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے پوش علاقوں میں بعض خواتین بھی کھلے عام سودی کاروبار کر رہی ہیں، جبکہ برسوں سے غریب اور بے بس خاندان سود خوروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ عزت اور بدنامی کے خوف سے وہ خاموش رہنے پر مجبور ہیں تاکہ اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ سکیں۔

متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے جہلم میں سود کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کریں، تاکہ مزید خاندان اس معاشرتی ناسور کی بھینٹ چڑھنے سے بچ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button