یومِ استحصال کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، ڈاکٹر فضل الحق


جہلم: یومِ استحصال کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال مزید ابتر ہوئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار ممبر قومی اسمبلی چوہدری فرخ الطاف کے پرسنل سیکرٹری ڈاکٹر فضل الحق (فضلی) نے جہلم پریس کلب کے نمائندہ وفد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 370 اور 35 اے کی شقیں بھارت نے ان کشمیری راہنماؤں کو دھوکہ دینے کے لئے آئین میں شامل کرائیں جنہیں بھارت نواز تصور کیاجاتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی یہ پیشگوئی 7 دہائیوں بعد 5 اگست 2019 میں اس وقت پوری ہوئی جب بھارت نے یہ شقیں اپنے آئین سے ختم کردیں۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 تحریک جدوجہد آزادی میں نیا سنگ میل تھا،5 اگست 2019 کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں میں کیا کہ بھارت کے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات سے جموں وکشمیر کی متنازعہ مسلمہ حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
صحافیوں کے وفد سے گفتگو میں ڈاکٹر فضل الحق نے کہا کہ تنازعہ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں طے کردہ استصواب رائے کے حق سے طے ہوگا، کشمیری آزادنہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ رائے دہی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد آج فلسطین قتل گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔



