جہلم جنرل بس اسٹینڈ پر اوورلوڈنگ اور من مانے کرایوں کا انکشاف، مسافر شدید مشکلات کا شکار

جہلم: جنرل بس اسٹینڈ سے دوسرے اضلاع اور شہروں کی طرف روانہ ہونے والی مسافر ہائی ایس گاڑیوں میں اوور لوڈنگ اور مسافروں سے من مانے کرایے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کر کے گاڑیاں روانہ کی جاتی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور غیر انسانی حالات میں سفر کرنا ان کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے، لیکن ضلعی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، موٹر وہیکل ایگزامینر اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی اور عدم دلچسپی کے باعث ٹرانسپورٹرز من مانیاں کر رہے ہیں۔ ان محکموں کے ذمہ داران کی بظاہر چشم پوشی تشویشناک ہے، جو عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا رہی ہے۔
اوورلوڈنگ نہ صرف مسافروں کے لیے ذہنی و جسمانی اذیت کا باعث ہے بلکہ یہ ایک سنگین حفاظتی خطرہ بھی بن چکی ہے۔ گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی کی صورت میں اگر کوئی ایمرجنسی پیش آ جائے، جیسے کہ گاڑی میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگنا یا ٹریفک حادثہ ہونا، تو اس ہجوم میں مسافروں کے لیے محفوظ طریقے سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
عوامی شکایات کے مطابق نہ صرف اوورلوڈنگ کی جاتی ہے بلکہ ٹرانسپورٹرز پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ کرایوں سے بھی کہیں زیادہ وصولی کر رہے ہیں۔ اکثر گاڑیوں میں کرایے کی فہرست موجود نہیں ہوتی اور مسافروں کو مجبوراً اضافی رقم ادا کرنی پڑتی ہے، جو کہ سراسر عوامی استحصال ہے۔
شہری و سماجی حلقوں نے اس تمام تر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کے پاس کاروائی کے لیے وسائل کی کمی ہے یا پھر ٹرانسپورٹرز کو حاصل سیاسی پشت پناہی انہیں قانون سے بالاتر بنائے ہوئے ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ کرایوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور گاڑیوں میں گنجائش سے زائد مسافروں کو سوار کرنے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ عوام کو درپیش مسائل سے نجات مل سکے اور محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔



