جہلم میں جعلی و مضر صحت جوسز کی فروخت عروج پر، بچے اور بزرگ مختلف بیماریوں میں مبتلا

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں جعلی اور مضر صحت جوسز و مشروبات کی کھلے عام فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث بزرگوں، خواتین اور معصوم بچے گلے اور پیٹ کی مختلف موذی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مختلف برانڈز کی مشہور کمپنیوں کے ناموں سے مشابہت رکھنے والے جوسز اور مشروبات بازار میں عام دستیاب ہیں۔ دکانداروں اور ریڑھی بانوں نے ناقص، غیر معیاری اور دو نمبر جوسز دھڑلے سے فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بعض معروف برانڈز کے فرنچائزرز نے اپنے گوداموں میں اصلی جوسز کے ساتھ جعلی و مضر صحت جوسز کا بھی اسٹاک کر رکھا ہے، اور انہیں سپلائی کے دوران اصلی مشروبات کے ساتھ ملا کر دکانداروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

یہ ناقص اور غیر معیاری مشروبات استعمال کرنے کے نتیجے میں متعدد شہریوں، خاص طور پر بچوں اور ضعیف العمر افراد میں معدے، گلے اور نظامِ ہضم کی پیچیدہ بیماریوں کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور جعلی و مضر صحت مشروبات فروخت کرنے والے فرنچائزز اور دکانداروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

شہریوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فوری طور پر پورے ضلع میں کریک ڈاؤن شروع کر کے مشروبات کی کوالٹی چیک کرنی چاہیے تاکہ عوام کو صحت مند اور محفوظ اشیاء مہیا کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button