انتخابات نئی سمت کا تعین کرینگے، ٹوری پارٹی ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکال سکتی ہے، محمد افضل

گریٹر مانچسٹر /بولٹن: بولٹن سے کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار محمد افضل نے کہا ہے کہ 4 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات ملک کی نئی سمت کا تعین کریں گے۔ عوام کی بھاری اکثریت ٹوری پارٹی کے منشور کے حق میں فیصلہ دے کر ثابت کرے گی کہ ٹوری پارٹی نے ہمیشہ نسلی اقلیتوں کی ترقی خوشحالی اور کاروباری طبقہ کی بہتری کیلئے انتہائی اہم کام کئے ہیں جس سے واضع نظر آرہا ہے کہ ٹوری پارٹی کی موجودہ قیادت ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکال سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا برطانوی عوام کنزرویٹو کونسلوں اورکنزرویٹو ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں سے سبق سیکھیں جہاں ترقی کے واضح اثرات موجودہیں اور جہاں دوسری پارٹیوں کا کنٹرول ہے وہاں ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا جس سے ان حلقوں کو انتہائی پسماندہ ترین حلقے تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن حلقوں کی ترقی کو نظرانداز کیا گیا آج وہ حلقے جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے مسائل کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹوری پارٹی نے برطانیہ کے وقار کو عالمی سطح پربلند کرنے اور عوام کی خدمت اور ملکی ترقی کا مشن لے کر میدان میں اتری ہے اورپہلی مرتبہ کنزرویٹوپارٹی نے نسلی اقلیتوں بالخصوص پاکستان نژاد پڑھے لکھے اور باصلاحیت لوگوں کو ٹکٹ دے کر سیاسی میدان میں اتارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند سے آنے والے تارکین وطن جب سے اس ملک میں آباد ہوئے انہوں نے لیبر پارٹی کی چھاپ کو اپنے اوپر مسلط کیا ہوا ہے۔ انہوں نے سوچا تک نہیں کہ ان کے مسائل کیسے حل ہوں گے اب جب کہ ان کی نوجوان نسل اس ملک میں پروان چڑھ رہی ہے جس سے وہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ کون سی جماعت ان کے مسائل کے حل کیلئے بہتر کردار اد ا کرے گی۔ انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ ایشیائی کمیونٹی کے اس اکثریتی حلقے میں مجھے امیدوار بنایا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنی کامیابی کی صورت میں اس حلقے کی پسماندگی کو دور کرنے جرائم سے پاک اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے حکومتی منصوبے اور سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ نسلی منافرت اور اسلامی فوبیا کے خلاف پارلیمنٹ میں باقاعدہ مہم چلائیں گے۔



