انصاف اور تحریک انصاف

بین الاقوامی سطح پر ہوا ئی الیکٹرانی لہروں کے دوش پر شائع ہونے والے روز نامہ ’’ اردو پوائنٹ‘‘ نے بہترین حوصلہ افزائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالم بعنوان ’’جمہوریت اور پاکستان‘‘ کو خوب پذیرائی دی کہ مزید خیالات و تحقیقات کو سپرد قلم کرنے کی ٹھان لی۔
گزشتہ پچیس سال سے پاکستان کے نقشہ سیاست پر پاکستان تحریک انصاف کے غلغلے ہیں جس کا مرکز و محور کرپشن کا خاتمہ ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے مسند اقتدار پر برا جمان ہونے کے بعد صرف حذب اختلاف کے سیاسی قائدین تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان میں مروج منفرد اور مادر پدر آزاد ’’آزاد منڈی کی معیشت ‘‘کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دولت مندوں یا مالیات ، دیگر اشیاء کی طرح برآمد کرنے والوں کی طرف کوئی غور ہو تا دکھائی نہیں دیتا ۔ تین فقروں کے بل بوتے پر ساڑھے تین سال گزر چکے ہیں ، ناتجربہ کاری کا رونا رویا جاتا ہے یا این آر او نہ دینے کے اعلانات کر کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ساتھ ساتھ ایسے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں کوئی سوچ نہیں سکتا جیسا کہ برآمدات کی مقدار سالانہ 37ارب ڈالر تک پہنچانے کے دعوے وغیرہ ۔
بات بڑھتے ہوئے بات کہیں اصل عنوان سے دور نہ ہو جائے بہتر ہے کہ اپنے عنوان کے گردونواح میں ہی رہے تو قارئین کو بات سمجھنے میں آسانی رہے گی ، معاشی ترقی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی تین ترجیحات اب تک کھل کر سامنے آئی ہیں جن میں سب سے پہلے سپلائی سائیڈ اکانومی ( رسد رخ معاشیات ) ، جس معاشی کلیے کے مطابق اشیاء کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور فروخت میں اضافہ ہو تا ہے خریدار یا صارف کی قوت خرید کے متعلق کو زیر غور رکھے بغیر جس کے نتیجے میں پاکستان جہاں ایک گھرانے کے سربراہ کی ماہانہ اوسط آمدنی 16000/-روپے نکالی گئی ہے، بالکل پس پشت رکھا جاتا ہے ۔ سابقہ حکومتوں کی معیشت کا پہیہ طلب رخ معاشیات (ڈیمانڈ سائیڈ اکانومی) کے گرد گھومتا تھا عمومی طور پر عوام کے مفادات کو مد نظر رکھنے والی حکومت کی ترجیح ہوتی تھی اور ہونا بھی اسی طرح چا ہیے۔
موجودہ حکومت کی دوسری بڑی ترجیح ڈیجٹلائزیشن یعنی زندگی کی ہر سرگرمی کو کمپیوٹرائز کر دیا جائے اور تیسری اور سب سے بڑی عوام دشمن پالیسی جس کا نام ’’پرائیویٹائزیشن ‘‘(نجکاری )رکھا گیا ہے۔ مطلب یہ ذرائع پیداوار کا چند استحصالی ہاتھوں کو مالک بنا دیا جائے ۔
راقم الحروف کا یہاں ان اصطلاحات کی تشریح کا ہر گز مقصد نہیں ہے بلکہ قارئین کوانصاف کے لغوی معنی سے روشناسی اور تشریح تک پہنچانے کی قلمی کاوش کی جائے رہی ہے۔ بعد ازاں تحریک انصاف پاکستان کی حقیقت واضح کر نے کی کوشش کی جائے گی۔ اردو زبان میں عمومی طور پر الفاظ ’’عدل و انصاف ‘‘ استعمال کیے جاتے ہیں۔
علمی اعتبار سے یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں اور دونوں کے معانی بھی علیٰحدہ علیٰحدہ ہیں ۔ جہاں تک لفظ ’’عدل ‘‘ کا تعلق ہے تو لغت کے حوالے سے اس کے مطالب کچھ اس طرح ہیں کہ اجرت ، سزا اور جزا ہر ایک ضرورت کے مطابق بہم پہنچائی جائے جہاں تک معیشت کی بات آتی ہے تو معاشرے میں دستیاب وسائل کو ضرورت کے مطابق تقسیم کیا جائے یعنی جس قدر خاندان کے افراد ہوںگے ان کی ضروریات کے مطابق ریاست حقوق ، سہولیات فراہم کی کرنے کی سعی کرے ۔
یہاں میں ممتاز دینی مفکر محقق ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی پیش کردہ ایک تشریح مستعار لوں گا جہاں سے سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق، مثلاً دو بھائی ہیں ایک عمر میں بڑا جب کہ دوسر ا عمر میں چھوٹا تو لا محالہ بڑے بھائی کی ضرورت زیادہ ہو گی اور چھوٹے کی تھوڑی ۔ اب اگر ایک ’’تربوز‘‘ کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بڑے بھائی کی ضرورت کے مطابق حصہ دیا جائے گا اور چھوٹے کو اسکی ضرورت کے مطابق حصہ فراہم کر دیا جائے تو یہ سرگرمی’’ عدل‘‘ کہلائے گی ۔
اب ذرا ’’انصاف‘‘ کے لفظ کی تشریح وہ اس طرح کہ انصاف کے لفظ کا ماخذ نصف ہے یعنی آدھا آدھا ،برابر تقسیم کر دینا لیکن عقلی اعتبار سے یہ تقسیم درست نہیں ہو سکتی کیونکہ برابر تقسیم کے عمل سے ضرور ت کو مد نظر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لئے ہمیں علم ہونا چاہیے کہ ’’عدل و انصاف ‘‘ الفاظ کے طور استعمال تو اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن عملی اعتبار سے دونوں سرگرمیاں یکساں وقت میں مروج یا نافذ نہیں ہو سکتیں۔ جب انصاف ہو گا تو عدل نہیں ہو گا اسی طرح عدل کرتے ہوئے انصاف ممکن نہیں ہو گا۔
قارئین کو یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کالم نگار کا مطلب لفظ معاشی انصاف اور اقتصادی عدل کے اعمال کی تشریح کرنے کی قلمی جسارت کرنا ہے تا کہ جب قارئین دنیا کا عقلی اعتبار سے معاشی جائزہ لیں تو پتا چل جائے کہ اس وقت اس میڈیائی عالمی گاؤں میں انسانوں کی اکثریت کس حال میں زندہ ہے اور بہتر صورت حال دنیا کے کس حصے میں ہے اور ابتر صورت حال کہاں ہے یا کس نظا م معیشت کے تحت انسان بہتر زندگی گزار رہے ہیں ۔ مقصدیہ کہ دنیا کے کن ممالک میں عادلانہ معاشی نظام کی وجہ سے سماجی اور اخلاقی جرائم کی تعداد کم ہے اور اس کی وجہ کیا ہے ۔
واضح کر نا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر کے اشتراکی ممالک میں عوام سماجی تفکرات سے زیادہ آزاد ہیں بنسبت سرمایہ دارانہ نظا م معیشت میں جکڑے ممالک کے عوام کے ۔ وجہ صرف اور صرف ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت ، غیر منصفانہ ، ناہموار تقسیم اور محنت کشوں کا استحصال ، محنت سرمایہ دار کی ضرورت کے مطابق لیکن معاوضہ صرف کام کے مطابق نہ کہ ضرورت کے مطابق دیا جاتا ہے۔ اگر یورپ اور امریکہ جیسی معیشتوں کی بات کی جائے تو وہاں کے معاشی دانشوروں نے 1917ء کے سوویت یونین اشتراکی انقلاب کے ساتھ اس سوشلسٹ نظا م سے چند بنیادی نکات منتخب کر کے فلاحی سماجی ریاستوں کا قیام ممکن بنا لیا تھا ۔ چنداں انصاف محسوس ہو سکتا ہے ۔
اسی طرح سوشلسٹ ممالک میں جس طرح ذرائع پیداوار (زمین ، محنت ، سرمایہ اور تنظیم ) کو اجتماعی اعتبار سے برابر مصروف کر کے اشتراکی سماج قائم کر لیا گیا ہے اس کے نتیجے میں سماجی اور اخلاقی جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں افراد کو ملکیت اور اقتصادیات کے حوالے سے محدود کر دیا گیا ہے لیکن صلاحیتیں وطنی فکر کے اعتبار سے برابر بہترین انداز میں استعمال ہونے لگی ہیں جس قدر لوگ ذاتی تفکرات مثلاً تعلیم ، صحت ، رہائش اور روزگار کی تلاش سے آزاد ہو ں گے اسی قدر صحت مند اور جرائم سے پاک رہیں گے۔
عوامی جمہوریہ چین اور دیگر سوشلسٹ ممالک میں پر امن ترقی اسی نظام کے نتیجے میں ہوئی ہے اورجاری ہے ۔ جس آزاد سرمایہ داری کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اجتماعی بنیادوں پر ہو رہی ہے کوئی ذاتی طور پر سرمائے کو جمع کرنے یا منی لانڈرنگ جیسی قباحتوں میں ملوث نہیں ہے ۔
اب ذرا عنوان کے دوسرا حصہ پر گفتگو ہو جائے تو بات بہتر رہے گی ۔ پاکستان تحریک انصاف کا قیام جون 1996ء میں عمل میں آیا ، نئی سیاسی جماعت کے منشور میں’’ کرپشن فری پاکستان ‘‘کا قیام ہدف ٹھہرایا گیاجو آج تک تو ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہے موجودہ رائج الوقت معاشی نظام کے ہوتے ہوئے انصاف اور تحریک انصاف کا یہ ویژن کامیاب کیسے ہو سکتا ہے؟ بالکل اس طرح کہ بقول شاعر ’’ظلم ہو اور امن رہے ، یہ کیسے ممکن ہے ‘‘، وجہ صرف اتنی ہے کرپشن فری سوسائٹی کا جو طریقہ کار وضع کیا گیا وہ سرے سے قابل عمل ہونا ممکن ہی نہیں۔
بات پھر تحریک سے شروع کروں گا بنیادی طور پر تحریک کون سی سرگرمی ہو سکتی ہے ، تحریک اردو کے لفظ متحرک سے نکلا ہے جس کا مطلب کچھ ایسے ممکن ہے کہ جامد اور ساقط کو حرکت میں لانا ۔ جو نہیں کیا گیا بلکہ پہلے سے موجود گلے سڑے معاشی اقتصادی نظا م کے اندر رہتے ہوئے ہی تبدیلی کا تصور دیا گیا اور یہ کہ بذریعہ انتخاب اقتدار میں آکر کرپشن فری سوسائٹی کے لئے اقدامات کیے جائیں گے ۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ تحریک یہ چلائی جاتی کہ پاکستان کے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا انتہائی سادہ اور آسان حل نظا م معیشت کی تبدیلی کے اندر ہے اگر عوام کو فکری طور پر تیار کیا جاتا کہ جب تک نجی ملکیت جو بے ہنگم اور لا محدود ہے اسی لئے ناہموار معاشی کیفیت میں عوام جکڑے ہوئے ہیں۔
عوا م کو فکری اعتبار سے تیار کیا جاتا کہ قیام پاکستان سے اب تک مخصوص حکران لابی اس ملک کے 90فیصد محنت کش عوام کے ہر قسم کے استحصال میں مصروف ہے ان مخصوص طبقات کا نام جاگیردار ، وڈیرے ، سردار ، چوہدری، ٹمن اور ٹوانے وغیرہ ہے ان کی حیثیت کو قوت کو صرف اور صرف نجی ملکیت کے خاتمے میں مضمر ہے اس کے خاتمے تک تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی ، لیکن کاش ایسا کوئی ویژن نہیں دیا گیا۔
22سال کے طویل عرصہ کے دوران کئی مرتبہ بلا وجہ دھرنے دیے گئے لیکن مقصد صرف اور صرف عنان اقتدار پر براجمان قائدین اور سیاسی جما عتوں کی کرپشن کی کہانیاں سنانا رہا، معاشی نظام کی حقیقی تبدیلی کی طرف کوئی بات تک نہ کی گئی۔ یعنی فکری قسم کی کوئی تحریک معرض وجود میں سرے سے لائی تک نہ گئی جبکہ انصاف کا نفاذ تو اس کے بعد کا مرحلہ تھا اس نے کیسے نافذ ہونا تھا۔ کئی مرتبہ عوامی سٹیجوں سے بات کی گئی کہ سسٹم کو بچانا ہے جس کا مطلب واضح تھا کہ عالمی سطح پر گلے سڑے سرمایہ داری نظام بطور کتا تو کنوئیں کے اندر ہی رہے گا لیکن پچاس لوٹے پانی کے نکال کر پاک تصور کیا جائے گا۔ تحریک رائج الوقت نظام کی تبدیلی کے لیے چلتی ہے یا چلائی جاتی ہے۔
قارئین جن میں پاکستانیوں کی اکثریت شامل ہے کو شاید سسٹم کا مطلب ہی سمجھ میں نہ آئے تو جناب سسٹم انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نظام کے ہوتے ہیں ۔ لیکن اس کے عقب میں بہت سی وجوہات ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ کہیں یا منشور کہیں لیکن مروجہ آزاد منڈی کے نظا م معیشت کی موجودگی میں یہ ایک نعرہ توہو سکتا ہے لیکن عملی اعتبار سے کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا ۔ کیونکہ ایک ایسا نظام جس کی بنیاد معاشی ناہمواری پر رکھی گئی ہو اس صورت حال میں کرپشن سے پاک معاشرے کا قیام کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟سوائے ایک سیاسی تصور کے۔
ہاں ، ایک صورت ہو سکتی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں نجی ملکیت کے خاتمے کا نظریہ ہوتا یا سماجی فلاحی ریاست کے قیام کے سلسلے میں کوئی فکر ہوتی، شاید کوئی کرن پیدا ہو سکتی تھی لیکن سابقہ حکمرانوں کو نشانے پر رکھ کر اقتدار کے تین سال سے زائد کا عرصہ گزار دینا کہاں کا انصاف ہے۔ اس تحریک انصاف کی حکومت میں عوام نام کی مخلوق تو کہیں دکھائی تک نہیں دیتی بر حال بات اختتام کرنے کی جاتا ہوں کیونکہ کالم کی طوالت سے قارئین کا مزا یا جوش پھیکا پڑ سکتا ہے ۔
یہاں ایک بات کا اضافہ کر کے سماجی فلاحی ریاست کی مثال پیش کر کے کالم کا اختتام کر لوں گا۔ خبر آئی ہے الجزائر کے صدر’’عبدالماجد تبو‘‘ نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے بے روزگار نوجوانوں کے لئے مفت طبی سہولیات/ مراعات کے ساتھ ساتھ کم از کم از اجرت کے دو تہائی کے برابر 13000دینار (92ڈالر) ماہانہ بے روزگاری الاؤنس دیا جائے گا ، جبکہ الجزائر کے بے روزگار نوجوانوں کو بعض ٹیکسز اور اشیائے صارفین پر بھی چھوٹ حاصل ہو گی۔ بعض باتیں اشارے کے طور پر ہی کافی ہوتی ہیں لیکن سمجھ دار کے لئے ، ناسمجھ کے لئے ہر گز نہیں۔
تحریر: پروفیسر افتخار محمود
فون نمبر 03065430285 – 03015430285
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



