ضلع جہلم میں خلع، طلاق اور نان و نفقہ کے مقدمات میں نمایاں اضافہ

جہلم، تحصیل سوہاوہ اور تحصیل پنڈدادنخان میں رواں سال 2025 کے دوران خاندانی نوعیت کے مقدمات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان میں خلع، طلاق، نان و نفقہ اور بچوں کی سرپرستی سے متعلق کیسز کی تعداد گزشتہ برسوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران درجنوں خواتین نے فیملی کورٹس میں خلع کی درخواستیں دائر کیں، جب کہ گارڈین کورٹس میں بچوں کی سرپرستی اور ملاقات کے حقوق سے متعلق نئے کیسز بھی بڑی تعداد میں زیرِ سماعت آئے۔
ماہرین سماجیات اور قانون کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران خلع و طلاق کے کیسز میں تقریباً 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو گھریلو ناچاقیوں اور سماجی رویوں میں بگاڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق خاندانی جھگڑوں کی بڑی وجوہات میں سسرالیوں کی مداخلت، مالی مسائل، گھریلو تشدد، بات چیت کی کمی اور سوشل میڈیا و مغربی طرزِ زندگی کا بڑھتا ہوا اثر شامل ہیں۔
کئی خواتین نے عدالتوں میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ گھریلو تشدد، ذہنی اذیت اور ناانصافیوں کے باعث شادی کا بندھن برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، لہٰذا خلع کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
سول امور کے ماہر وکلاء راجہ قمر زمان عشرت اور شیخ کاشف ریاض ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پاکستانی قانون کے مطابق مرد طلاق اور عورت خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔ عورت خلع کی درخواست فیملی کورٹ میں دائر کرتی ہے، جہاں مفاہمت کی کوشش کے بعد جج خلع کی ڈگری جاری کرتا ہے۔ اس کے بعد یونین کونسل کو اطلاع دی جاتی ہے، جو تین ماہ کی عدت کے بعد قانونی عمل مکمل کرتی ہے۔
وکلاء کے مطابق خلع کا فیصلہ آنے کے باوجود خواتین کو یونین کونسل سے خلع سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے اکثر کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔
محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے مطابق فیملی کورٹ کے فیصلے کے بعد شوہر کو ہر ماہ نوٹس بھیجا جاتا ہے، اور اگر 90 دن کے اندر کوئی جواب موصول نہ ہو تو خلع سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔ تاہم محکمہ کے مطابق اکثر کیسز میں شوہروں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا، جس کے باعث عدالتی فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔



