مہنگائی تھمی نہیں؛ اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام سال بھر پریشان رہے

ملک میں مہنگائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی جب کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو سال بھر ذہنی کرب سے دوچار رکھا۔

وفاقی ادارہ شماریات نے ایک سال کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں رد و بدل پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق روزمرہ استعمال کی کئی اشیا مہنگی ہوئی ہیں جب کہ چند اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جہاں آٹا، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں نیچے آئی ہیں، وہیں چکن، گوشت، چینی، انڈے اور گھی سمیت کئی ضروری اشیا مہنگی ہو گئی ہیں، جس سے عام شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔

اعدادوشمار میں بتایا گیاہ ے کہ گزشتہ ایک سال میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1907 روپے سے کم ہو کر 1509 روپے کا ہو گیا، یعنی 400 روپے کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

اسی طرح پیاز کی قیمت 113 اعشاریہ 91 روپے سے گھٹ کر 45 اعشاریہ 51 روپے فی کلو، ٹماٹر 67 اعشاریہ 68 سے کم ہو کر 49 روپے اور آلو 87 اعشاریہ 85 سے کم ہو کر 62 اعشاریہ 85 روپے فی کلو ہو گئے ہیں۔ علاوہ ازیں دال ماش بھی 548 روپے سے کم ہو کر 457 اعشاریہ 78 روپے فی کلو ہو گئی۔

دوسری جانب بنیادی غذائی اشیا کی بڑی فہرست مسلسل مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔

چینی کی قیمت 143 اعشاریہ 78 روپے سے بڑھ کر 174 اعشاریہ 19 روپے فی کلو ہو گئی۔ اسی طرح چکن 347 روپے سے بڑھ کر 456 اعشاریہ 48 روپے، بڑا گوشت 933 اعشاریہ 39 سے 1105 روپے جب کہ چھوٹا گوشت 1877 سے بڑھ کر 2026 روپے فی کلو ہو گیا۔

علاوہ ازیں دودھ 187 اعشاریہ 15 سے بڑھ کر 198 اعشاریہ 39 روپے، دہی 219 اعشاریہ 26 سے بڑھ کر 231 اعشاریہ 51 روپے اور فارمی انڈے 252 اعشاریہ 43 سے بڑھ کر 295 اعشاریہ 78 روپے فی درجن ہو گئے۔

سرسوں کا تیل بھی 495 اعشاریہ 45 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 527 اعشاریہ 64 روپے اور گھی 503 اعشاریہ 29 روپے سے بڑھ کر 568 اعشاریہ 40 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ دالوں کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں دال مونگ 308 اعشاریہ 75 سے بڑھ کر 400 اعشاریہ 82 روپے اور دال چنا 260 سے بڑھ کر 314 اعشاریہ 58 روپے فی کلو ہو گئی۔ اسی طرح دال مسور 320 اعشاریہ 94 سے کم ہو کر 293 اعشاریہ 52 روپے اور دال ماش میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

قیمتوں میں اضافے کو مزید دیکھا جائے تو کیلے کی فی درجن قیمت بھی 146 اعشاریہ 63 روپے سے بڑھ کر 176 اعشاریہ 55 روپے ہو چکی ہے، جس سے پھلوں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ اگرچہ آٹے اور سبزیوں کی قیمتوں میں کمی خوش آئند ہے، مگر دیگر ضروری اشیا کی مہنگائی نے ان کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت کو موثر اور پائیدار معاشی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button