جہلم کے پٹواریوں نے سائلین کو تگنی کا ناچ نچانا شروع کر دیا، شہری ذلیل و خوار ہونے لگے

جہلم شہر سمیت ضلع بھرکے پٹواریوں نے سائلین کو تگنی کا ناچ نچانا شروع کر رکھا ہے، اکثریت پٹواری پٹوار خانوں میں موجود نہیں ہوتے جبکہ معزز عدالت کی جانب پرائیویٹ منشیوں کے رکھنے پر پابندی کے باوجود پرائیویٹ منشیوں کی فوج دفاتر میں سرکاری کاغذات کا بے دریغ استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے۔

عام سائلین کو فرد کے حصول کی خاطر بھی متعدد بار پٹوار خانوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور پھر رشوت دیکر ہی فرد حاصل کر پاتے ہیں جبکہ ضلعی اور تحصیل سطح پر لگائی جانے والی کھلی کچہریاں بھی محض ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں۔

سرکاری سطح پر انتظامیہ کی طرف سے باضابطہ اطلاعات نہ ہونے کی وجہ سے سائلین نہ ہونے کے برابر شرکت کرتے ہیں، چونکہ ضلع جہلم ریونیو آمدن کے لحاظ سے راولپنڈی ڈویژن بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے محکمہ مال کے افسران کی عدم دلچسپی کیوجہ سے سائلین کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

عوامی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف ، چیف سیکرٹری پنجاب، سینئر ممبر بورڈآف ریونیو، ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹواریوں کو اپنے متعلقہ پٹوار خانوں میں بیٹھنے اور دیانتداری سے ڈیوٹیاں سر انجام دینے کا پابند بنایا جائے سائلین کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو جن پٹواریوں سے شکایت ہوں ا نکے ازالے کے لئے عوامی شکایات سیل کا قیام، ای میل، سرکاری نمبرز کی صورت میں عوام کی رسائی یا لائیو فیس بک کے ذریعے ممکن بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پٹوار خانوں سے منشیوں اور ٹاؤٹ مافیاز سے مجبور سائلین کی جان چھڑوائی جائے اور انصاف کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے کے لئے اعلیٰ افسران بھر پور ایکشن لیں تاکہ مسائل ختم ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button