سوہاوہ کے مزید 20 سرکاری تعلیمی ادارے ’’آؤٹ سورس ‘‘ پالیسی کی بھینٹ چڑھا دیے گئے

پڑی درویزہ/ سوہاوہ: تحصیل سوہاوہ میں حکومت پنجاب کی آؤٹ سورس پالیسی کے تحت مزید 20 پرائمری اور ایلیمنٹری تعلیمی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا، جس پر سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام سورس آؤٹ پالیسی کے چوتھے مرحلے کے تحت کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں کو نجی انتظام میں دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جہلم کے جنرل سیکرٹری اور سابق امیدوار برائے ایم پی اے مرزا عبدالغفار نے حکومت پنجاب کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
مرزا عبدالغفار کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اس سے تعلیم جیسے بنیادی شعبے کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس پالیسی پر نظر ثانی نہ کی تو عوام آئندہ انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے جواب دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی اداروں کی نجکاری سے عوامی مسائل میں اضافہ ہوگا اور اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے، بصورت دیگر مستقبل میں سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



