جہلم میں شہریوں کا شور و غل سے جینا محال؛ لوڈر رکشوں اور بھکاریوں کے لاؤڈ اسپیکر فوری ہٹائے جائیں، شہری حلقے

جہلم شہر میں لوڈر رکشوں، سبزی و فروٹ فروشوں اور بھکاریوں کی ریڑھیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں اور ٹیپ ریکارڈرز نے شہریوں کا سکون چھین لیا ہے۔

شہریوں کے مطابق اندرونِ شہر میں ٹریفک پولیس کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوڈر رکشہ ڈرائیورز نے جنگل کا قانون نافذ کر رکھا ہے۔

شہریوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق عزیز سندھو فوری طور پر ان غیر قانونی آلات کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کریں تاکہ لوگ چڑچڑے پن اور ڈپریشن جیسے مسائل سے بچ سکیں۔

سماجی، فلاحی اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے کہا کہ ہر تیسرے لوڈر رکشے پر لاؤڈ اسپیکر نصب ہے جبکہ کئی بھکاری اپنی ریڑھیوں پر سپیکر لگا کر بھیک مانگنے کے دوران شور و غل مچاتے ہیں، جس سے گھروں میں موجود بزرگ، معصوم بچے اور اسکول کے طلبہ سخت ذہنی اذیت کا شکار ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے ڈی پی او جہلم سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک پولیس اور ضلع پولیس کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ سپیکر لگا کر کاروبار یا بھیک مانگنے والے افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں تاکہ شہری سکون کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی گزار سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button