جہلم میں کاپیاں نہ لانے پر سرکاری سکول کی ٹیچر جلاد بن گئی، معصوم بچے پر مبینہ وحشیانہ تشدد

جہلم: سکول کی کاپیاں کیوں نہیں لائے؟ سرکاری سکول کی ٹیچر جلاد بن گئی، سوئم کلاس کے معصوم بچے پر مبینہ وحشیانہ تشدد، بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات، اسپتال سے میڈیکل مکمل، رپورٹ کا انتظار، سکول ٹیچر کے خلاف تھانہ کالاگجراں میں درخواست دائر کر دی گئی، بچے کے والدین کا وزیر اعلی مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول کنتریلہ کی خاتون ٹیچر نے مار نہیں پیار کی منجھی ٹھوک کر رکھ دی، محکمہ تعلیم کے نعرے کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔

بچے کے والد ساجد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا طٰہ سوئم کلاس کا طالب علم ہے، اس معصوم طالب علم کو فریدہ نامی خاتون ٹیچر نے اس وقت ڈنڈوں، لاتوں، مکوں اور تھپڑوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جب خاتون ٹیچر نے طالب علم سے پوچھا کہ کاپیاں کیوں نہیں لائے ۔ بچے کو آو نہ دیکھا تاو، تشدد سے بچے کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پڑ گئے۔

بچے کے والد کا مزید کہنا تھا کہ ہم سول اسپتال جہلم سے ایم ایل سی کروا لی ہے، رپورٹ آنے کا انتظار ہے اور تھانہ کالاگجراں میں ٹیچر فریدہ کے خلاف درخواست بھی دائر کی گی ہے ۔

دوسری جانب مبینہ تشدد کے حوالے سے بی بی سی جہلم نے سی ای او ایجوکیشن کا موقف جاننا چاہا تو سی ای او ایجوکیشن میٹنگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے موقف نہ دے سکے۔

بچے کے والد نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور ڈپٹی کمشنر جہلم سمیع اللہ فاروق سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور مذکورہ ٹیچر کو نوکری سے فارغ کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button