خلیجی ممالک کی پروازوں کے کرایوں میں عنقریب کمی کا امکان

دبئی: خلیجی ممالک کی پروازوں کے کرایوں میں عنقریب کمی آنے کا امکان ظاہر کردیا گیا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان زیادہ کرایہ سفر اور سیاحت کے شعبے کو متاثر کر رہا ہے کیوں کہ یہاں انٹرا ریجن ہوائی سفر کے اخراجات دوسرے خطوں سے زیادہ ہیں، جی سی سی کے کچھ روٹس کو صلاحیت کی رکاوٹوں کے چیلنج کا بھی سامنا ہے، جس کے نتیجے میں خلیج عرب میں ہوائی کرایہ یورپ اور ایشیاء کے خطوں کی نسبت زیادہ ہے۔

دوسرے خطوں میں مسافروں کے پاس کم لاگت والے کیریئرز کی دستیابی کے لحاظ سے بہت زیادہ اختیارات ہیں، تاہم متحدہ عرب میں انڈسٹری کے ایگزیکٹوز کو امید ہے کہ سنگل ٹورسٹ ویزہ کے ساتھ ساتھ بجٹ اور انتہائی کم لاگت والے کیریئرز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خطے میں سفر و سیاحت کے شعبے کو فروغ ملے گا اور آنے والے سالوں میں سفری لاگت میں بھی کمی آئے گی۔

بتایا گیا ہے کہ جی سی سی کے اندر سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک کے اندر زیادہ ڈومیسٹک فلائٹس نہ ہونے کی وجہ سے یہ خطہ مکمل طور پر انٹرا ریجن ٹریفک پر انحصار کرتا ہے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب، عمان اور کویت تک سفر کے لیے اس کا انحصار زیادہ ہے، اس کے علاوہ علاقائی سیاحتی مرکز دبئی خطے کے ممالک کے سیاحوں کی ایک اچھی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

رولینڈ برجر کی طرف سے جاری کردہ ایک مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ یورپین اور ایشیائی ایئر لائنز جو اپنے اپنے علاقوں میں سفر کرتے وقت بہت کم کرایہ حاصل کرتی ہیں، ان کے مقابلے جی سی سی کی انٹرا ریجن پروازوں کے کرائے زیادہ ہیں، اس صورتحال میں صنعت کے ایگزیکٹوز تجویز کرتے ہیں کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی مضبوط قوت خرید اور اعلی فی کس آمدنی کی وجہ سے انٹرا جی سی سی کے ہوائی کرائے انٹرا یورپ اور انٹرا ایشیائی خطوں سے زیادہ ہیں۔

دیرا ٹریول اینڈ ٹورسٹ ایجنسی کے جنرل منیجر کا کہنا ہے کہ "تجارتی طور پر علاقائی ایئر لائنز اپنے ہوائی جہاز کو جی سی سی سے باہر چلانے کو ترجیح دیتی ہیں کیوں کہ وہ جی سی سی میں آپریٹنگ پروازوں سے بہتر آمدنی حاصل کرتی ہیں، فی الحال دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کی ٹریفک جی سی سی کے اندر بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہی اور یہ صرف کارپوریٹ ٹریفک ہے جو بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے لیکن ایک بار جب سنگل ٹورسٹ ویزہ کا اجراء ہو جائے گا جو لوگوں کو تمام علاقائی ممالک کا سفر کرنے کی اجازت دے گا تو اس سے یقینی طور پر خطے کے اندر فضائی ٹریفک کو فروغ ملے گا اور مزید ایئر لائنز خطے میں آئیں گی جس سے پروازوں کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی”۔

گلداری انٹرنیشنل ٹریول سروسز سے بطور مینیجر منسلک وسیم راجہ کہتے ہیں کہ "خلیجی خطے کے مقابلے یورپ کے اندر سفر کرنا بہت سستا ہے، ہر مارکیٹ کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں، جی سی سی کے رہائشی مضبوط قوت خرید سے لطف اندوز ہوتے ہیں، بجٹ کیریئر کئی دہائیوں سے یورپ میں کام کر رہے ہیں لیکن اب خلیجی خطے میں بھی کم لاگت والی ایئر لائنز بڑھ رہی ہیں، اس کے علاوہ خلیجی راستوں کے لیے ڈیمانڈ اور سپلائی کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی اپنا کام کر رہی ہے”۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button