قلعہ روہتاس اور ٹلہ جوگیاں سمیت 4 تاریخی مقامات کی دوبارہ کھدائی، 800 ملین روپے مختص

پنجاب حکومت نے 4 تاریخی مقامات پر دوبارہ کھدائی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی قدیم حیثیت اور اہمیت کے بارے میں مزید شواہد سامنے لائے جا سکیں۔
یہ کھدائی ٹیکسلا، قلعہ روہتاس، ٹلہ جوگیاں اور چولستان کے قلعوں پر اکتوبر سے شروع ہوگی ۔کھدائی فروری تک جاری رہے گی اور اس کے لیے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
چولستان کے سات قلعوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ڈویلپمنٹ منصوبوں کیلئے800 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ محکمے کا کام صرف پرانی عمارتوں کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ نئی دریافتوں کو سامنے لانا بھی ہے۔
کھدائی سے کئی پوشیدہ پہلو اجاگر ہوں گے، گندھارا تہذیب بارے1913سے وقفے وقفے سے کھدائی ہوتی رہی ہے جس میں قدیم بدھ مت خانقاہوں، اسٹوپوں اور مجسموں کے کئی اہم شواہد ملے۔
جہلم کا مشہور قلعہ روہتاس شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا۔ ٹلہ جوگیاں کو صوفی اور ہندو سنتوں کا قدیم مقام سمجھا جاتا ہے ، ان میں قلعہ دراوڑ سب سے نمایاں ہے۔



